تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 252

کہا گیا تھا کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔اور تم تسلیم کرتے ہو کہ تمہیں واقع میں یہ تعلیم دی گئی تھی۔تمہیں رشتہ داروں، یتامیٰ اور مساکین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا تھا۔اور تم مانتے ہو کہ یہ بات درست ہے۔پھر تمہیں یہ بھی کہا گیا تھا کہ تم لوگوں کو تکلیف نہ دو۔ان کے جذبات کا خیال رکھو۔اُن کے ساتھ اچھی طرح پیش آئو۔اور تم یہ اقرار کرتے ہو کہ ہمیں یہ احکام دیئے گئے تھے۔پس سوال یہ ہے کہ کیا تم ان احکام پر عمل کرتے ہو۔اگر تم اپنے حالات کا جائزہ لو تو تمہیں ماننا پڑے گا کہ تم ان احکام پر عمل نہیں کرتے۔اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ ہر قوم میں کچھ افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو عام خرابی واقع ہونے کے بعد بھی نیکی پر قائم رہتے ہیں مگر وہ قوم بحیثیت مجموعی مرُدہ ہی کہلاتی ہے کیونکہ اس کی اکثریت احکامِ الہٰی سے اعراض کر رہی ہوتی ہے اور یہی یہود کی کیفیت تھی۔یہاں یہ شُبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ ممکن ہے یہود نے صرف ظاہری طور پر کسی مجبوری یا ناواقفیت کی وجہ سے ایسا کیا ہو۔ورنہ دلوں میں وہ ان احکام کی عظمت اور ان کی اہمیت کے قائل ہوں۔جیسے مسلمانوں میں کئی ہیں جو نمازیں نہیں پڑھتے۔کئی ہیں جو روزے نہیں رکھتے۔کئی ہیںجو زکوٰۃ نہیں دیتے۔کئی ہیں جو استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتے۔مگر وہ اپنے دلوں میں نماز اور روزہ اور زکوٰۃ اور حج کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔اور اپنی بدعملی کو صرف غفلت اور گناہ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔اِسی طرح ممکن ہے یہود بھی صرف ظاہری طور پر بد عمل ہو چکے ہوں اور دلوں میں ان احکام کی عظمت کے قائل ہوں۔اس شُبہ کے ازالہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَکے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْمیں تو اس طرف اشارہ فرمایا کہ تمہارا ان احکام پر ظاہری طور پر کوئی عمل نہیں۔اور اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ فرما کر اس طرف توجہ دلائی کہ تمہارے دلوں میں بھی ان کی طرف کوئی رغبت نہیں رہی۔اور اب تم موسوی شریعت سے کلی طور پر بیگانہ ہو چکے ہو۔گویا ظاہری طور پر بھی تم میں بے دینی اور اباحت پیدا ہو گئی ہے اور باطنی طور پر بھی تمہاری روحانیت مر چکی ہے۔وَ اِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا کہ تم (آپس میں ) اپنے خون نہ بہاؤگے اور اپنے آپ کو تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ (یعنی اپنی قوم کے لوگوں کو) اپنے گھروں سے نہ نکالو گے اور تم نے (اس کا) اقرار کر لیا تھا اور تم