تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 248

رکھا گیا ہے اسی طرح یہاں بھی ترتیب الفاظ کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا گیا۔سب سے پہلے لَاتَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰہَ میں واحد خدا پر ایمان لانے اور اس کی عبادت کرنے کا حکم بیان کیا ہے کیونکہ توحید ایک بنیادی اصل ہے جو تمام انبیاء کا مشترک مشن تھا اور جس کے سمجھنے سے ہی باقی تمام مسائل سمجھے جا سکتے ہیں۔اِس کے بعد وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا کا حکم دے کر والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم بیان کیا ہے۔کیونکہ والدین کا احسان خدا تعالیٰ کے احسان کا ظل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا احسان حقیقی ہوتا ہے اور باقی سب احسان ظلّی ہوتے ہیں۔اور چونکہ والدین بھی اپنی اولاد کے لئے خدا تعالیٰ کی صفات کے ایک رنگ میں مظہر ہوتے ہیں۔اس لئے توحید کے ذکر کے بعد والدین کے ساتھ حُسنِ سلوک کا ذکر فرما دیا۔وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًاسے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہیے کہ والدین سے سلوک بھی احسان کے معروف معنوں میں کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔کیونکہ اس آیت میں احسان کا لفظ عام معنوں میں استعمال نہیں ہوا بلکہ ایک اور معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔عربی زبان کا محاورہ ہے کہ کسی امر کے بدلہ کے لئے بھی وہی لفظ استعمال کر دیا جاتا ہے۔جیسے ظلم کے بدلہ کا نام بھی ظلم رکھ دیا جاتا ہے اور اس سے مرادظلم نہیں ہوتا بلکہ اس کے معنے صرف ظلم کا بدلہ لینے کے ہوتے ہیں۔جیسے اسی سورۂ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ۔(البقرۃ :۱۹۵) یعنی جو شخص تم پر ظلم کرے تم اُس پر اُسی قدر ظلم کر سکتے ہو۔اب یہ امر ظاہر ہے کہ ظلم کا اسی قدر بدلہ لینا ظلم نہیں کہلا سکتا۔پس بدلہ لینے والے کے لئے جو اِعْتَدَاء کا لفظ استعمال کیا گیاہے اس کے معنے محض بدلہ کے ہیں نہ کہ ظلم کے۔اسی طرح احسان کرنے والے کے حق میں جب احسان کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کے معنے بدلۂ احسان کے ہوتے ہیں نہ کہ احسان کے لیکن احسان کرنے والوں کے سوا دوسرے لوگوں کی نسبت اس لفظ کا استعمال اپنے معروف معنوں میں ہوتا ہے۔اس کے بعد ذوی القربیٰ کے ساتھ حسن ِ سلوک کا ذکر ہے۔کیونکہ ماں باپ سے حسن ِسلوک کے بعد طبعاً ہر شخص اپنے رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کرتا ہے اور وہ بھی والدین کی عدم موجودگی میں والدین ہی کے قائم مقام سمجھے جاتے ہیں۔پھر عام لوگوں کو لیا ہے جن کا احسان حقیقی معنوں میں نہیں ہوتا بلکہ قومی معنوں میں ہوتا ہے۔ان میں سے پہلے یتامیٰ کو لیا ہے۔یہ خود محسن نہیں ہوتے لیکن ان کے ساتھ احسان اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ بوجہ اپنی کمزوری اور صغر سنی کے اپنے مطالبات کو خود پورا کروانے کی طاقت نہیں رکھتے۔اور اُن کے حقوق کودلیری کے ساتھ غصب کر لیا جاتا ہے۔پھر اس لئے بھی وہ محبت اور حسنِ سلوک کے مستحق ہوتے ہیں کہ وہ اپنے والدین کے سایۂ عاطفت سے