تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 21

ورغلایا تھا۔(پیدائش باب۳ آیت ۱ تا ۷) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان عورت کو مرد کی نسبت گناہ کے زیادہ قریب سمجھتا تھا تبھی اس نے براہِ راست آدم کو ورغلانے کی کوشش نہ کی۔پس جو بچہ بائبل کے بیان کے مطابق صرف حوّا کی کمزوری لے کر پیدا ہوا۔وہ گناہ کے زیادہ قریب تھا بہ نسبت اُن بچوںکے جو آدم کی نسبتی طاقت سے حصّہ لیتے ہیں۔خود مسیح علیہ ا لسلام کی اپنی رائے اپنے بارے میں انجیل کے مطابق یہ ہے۔لکھا ہے کہ ایک شخص مسیحؑ کے پاس آیا اور اُن سے کہا۔’’اے نیک اُستاد مَیں کونسا نیک کام کروں کہ ہمیشہ کی زندگی پاؤں۔اس نے اس سے کہا تو کیوں مجھے نیک کہتا ہے نیک تو کوئی نہیں مگر ایک یعنی خدا۔‘‘ (متی باب ۱۹۔آیت ۱۶،۱۷)ان آیات سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح اپنے آپ کو نیک نہیں قرار دیتے۔پھر انہیں ایک ہی نیک قرار دے کر کفّارہ کی بنیاد اس پر رکھنی کہاں تک درست فعل ہو سکتا ہے۔انجیل میں تحریف کا ایک نمونہ اس جگہ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بانیء سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ ا لسلام نے جب اس آیت کو پیش کر کے مسیحیوں کے کفارہ کے عقیدہ پر اعتراض کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو آیت اُنیس۱۹ سو سال تک بقول مسیحیوں کے اناجیل کا حصّہ تھی۔تازہ اناجیل میں اُسے بدل دیا گیا ہے۔کم سے کم اُردو کے تراجم میں سے اُسے بدل دیا گیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کا ترجمہ غلط ہوتا رہا ہے۔مسیح علیہ ا لسلام نے یہ نہیں کہا تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے بلکہ یہ کہا تھا کہ تو مجھ سے نیکی کی بابت کیوں پوچھتا ہے۔مگر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ انیس۱۹ سو سال تک جو غلطی معلوم نہیں ہوئی وہ بانیء سلسلہ احمدیہ کے اعتراض کے بعد کیونکر معلوم ہوئی ہے۔ظاہر ہے کہ یہ ایک دلیرانہ تحریف ہے جو اس زمانہ میں جبکہ پریس کو ایجاد ہوئے سینکڑوں سال گزر گئے ہیں اور کروڑوں اناجیل ہر زبان میں شائع ہو چکی ہیں کی گئی ہے۔جو قوم اس قدر دلیرانہ تحریف پریس کی ایجاد کے بعد کر سکتی ہے اس سے پریس سے پہلے تحریف کی کیا کچھ امید نہیں کی جا سکتی۔مگر یہ سب کچھ بائبل کے بیان کے مطابق ہے۔ورنہ جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے اسلام کے نزدیک تو سب ہی بچے نیک فطرت لے کر پیدا ہوتے ہیں۔خصوصاً اﷲ تعالیٰ کے انبیاء خواہ مسیحؑ ہوں یاموسیٰ ؑ یا اور کوئی۔سب کے سب اﷲ تعالیٰ کی حفاظت میں تھے مسیح علیہ ا لسلام کو کوئی خصوصیت حاصل نہ تھی۔مسیح کے کفاّرہ کی دوسری بنیاد اور اس کا انہدام اس بارہ میں یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مسیحؑ کے کفّارہ کی دوسری بنیاد اس پر ہے کہ وہ لوگوں کی خاطر اور ان کے گناہ اُٹھانے کے لئے صلیب پر لٹک کر مرے۔صلیب پر لٹک کر مرنے کی نسبت تو آگے چل کر متعلقہ آیات کے ماتحت لکھا جائے گا۔اس جگہ کے مناسب حال میں