تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 244
’’اگر کسی آدمی کا بیٹا گردن کش اورمگرا ہو جو اپنے باپ اور اپنی ماں کی آواز کو نہ سُنے۔اوروے ہر چنداُسے تنبیہ کریں پر وہ ان پر کان نہ لگاوے۔تب اُس کا باپ اور اس کی ماں اُسے پکڑیں اور باہر لے جا کے اُس شہر کے بزرگوں کے پاس اور اس جگہ کے دروازے پر لائیں اور وے اس شہر کے بزرگوں سے عرض کریں کہ یہ ہمارا بیٹا گردن کش اور مگرا ہے ہرگز ہماری بات نہیں مانتا۔بڑاہی کھائو اور متوالا ہے۔تو اس کے شہر کے سب لوگ اس پر پتھرائو کریں کہ وہ مر جائے۔تو شرارت کو اپنے درمیان سے یوں دفع کیجیئو تاکہ سارا اسرائیل سُنے اور ڈرے۔‘‘ (۳)ذی القربیٰ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا ذکر احبار باب ۱۹آیت۱۶تا۱۸ میں یوں آتا ہے: ’’تو عیب جوئیوں کی مانند اپنی قوم میں آیا جایا نہ کر۔اور اپنے بھائی کے خون پر کمر نہ باندھ۔میں خداوند ہوں۔تو اپنے بھائی سے بغض اپنے دل میں نہ رکھ۔تو البتہ اپنے بھائی کو نصیحت کر تاکہ ُتو اس کے سبب خطا کار نہ ٹھہرے۔ُتو اپنی قوم کے فرزندوں سے بدلہ مت لے اور نہ ان کی طرف سے کینہ رکھ۔بلکہ ُتو اپنے بھائی کو اپنی مانند پیار کر۔میں خداوند ہوں۔‘‘ یہ امریادرکھنا چاہیے کہ تورات میں تمام رشتہ داروں کے لئے عام طور پر بھائی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔(۴) بہو سے نیک سلوک کرنے کا ذکر خروج باب۲۱ آیت۹ میں اس طرح آتا ہے کہ ’’اگروہ اُس کی منگنی اپنے بیٹے کے ساتھ کردے تو وہ اُس سے بیٹوں کا سا سلوک کرے۔‘‘ (۵) ہمسایہ سے نیک سلوک کا ذکر احبار باب۱۹آیت۱۳ میں آتا ہے۔لکھا ہے: ’’ توُ اپنے پڑوسی سے دغا بازی نہ کر نہ اس سے کچھ چھین لے۔‘‘ چونکہ ذوی القربیٰ سے ظاہری قرابت بھی مراد ہو سکتی ہے اس لیے ہمسایہ کا ذکر کر دیا گیا ہے۔(۶)یتامیٰ کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر استثنا باب۱۴آیت۲۹ میں آتا ہے۔لکھا ہے:۔’’مسافر اور یتیم اور بیوہ جو تیرے پھاٹکوں کے اندر ہیں آویں اور کھاویں اور سیر ہو ویں تاکہ خداوند تیرا خدا تیرے ہاتھ کے سب کاموں میں جو تو کرتا ہے تجھے برکت بخشے۔‘‘ (۷)مساکین کے متعلق استثناباب۱۵ آیت۱۱ میں یوں حکم ہے کہ ’’مسکین زمین پر سے کبھی جاتے نہ رہیں گے۔اس لئے یہ کہہ کےمیں تجھے حکم کرتا ہوں کہ توُاپنے بھائی کے واسطے اور اپنے مسکین کے لئے اور اپنے محتاج کے واسطے جو تیری زمین پر ہے اپنا