تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 242

الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ۰۰۸۴ (اس کے بعد )تم میں سے چند ایک کے سوا باقی سب (کے سب )اعراض کرتے ہوئے پھر گئے۔حَلّ لُغَات۔مِیْثَاقٌ۔اَلْمِیْثَاقُ عَقْدٌ مُؤَکَّدٌ بِیَمِیْنٍ وَّعَھْدٍ۔مِیْثَاقٌ کے معنے ہیں ایسا عہد کرنا جو قسم سے مؤکد ہو۔(مفردات) تفسیر۔گزشتہ کئی رکوعوں میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے اُن افعالِ شنیعہ کا ذکر کیا تھا جن کا ارتکاب انہوں نے اپنے انبیاء کے مقابلہ میں کیا۔اور بتایا تھا کہ یہود کی ان متواتر نافرمانیوں کی وجہ سے ابراہیمی وعدۂ نبوت بنو اسحاق کی بجائے بنو اسمٰعیل کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہود صرف اس وجہ سے مجرم نہیں تھے کہ انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں معاندانہ رویہ اختیار کیا اور اسلام اورمسلمانوں کو تباہ کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا بلکہ اُن کے جرموں کا ایک لمبا سلسلہ تھا جس کی بنا پر آخر نبوت بنو اسحاق سے نکل کر بنو اسمٰعیل کی طرف منتقل ہو گئی۔اگر صرف اس آخری جرم کی وجہ سے اُن کو نبوت سے محروم کیا جاتا تو بے شک یہ اعتراض ہو سکتا تھا کہ صرف ایک جرم کی وجہ سے بنی اسرائیل کو نبوت سے کیوں محروم کر دیا گیا۔مگر اللہ تعالیٰ نے اُن کے جرائم کا ایک لمبا سلسلہ بیان فرما کر اس اعتراض کو دُور کر دیا اور بتادیا کہ تمہارے پے در پے گناہوں نے تمہیں اس سزا کا مستحق ٹھہرایا ہے کہ تم کو اس نعمت سے محروم کر دیا جائے۔پھر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ بنو اسحاق میں نبوت کا اجراء اُن کی کسی ذاتی فضیلت کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ ابراہیمی وعدوں کی وجہ سے تھا۔جب انہوں نے ابراہیمی عہد کو پس ِ پشت پھینک دیا تو محض بنو اسحاق کا ایک فرد ہوناانہیں نبوت کے انعام کا مستحق نہیں بنا سکتا تھا۔اس کے بعد قرآن کریم نے انہیںبتایا کہ تمہارے جرم اب بھی کچھ کم نہیں۔اس رسول کے آنے سے پہلے تمہاری قوم جو کچھ کیا کرتی تھی وہ تم نے اس رسول کے زمانہ میں بھی جاری رکھا ہے۔اگر اب بھی تمہاری قوم میں سے کوئی نبی آجاتا تو تم اس سے بھی یہی سلوک کرتے۔پس تمہارا یہ کہنا کہ ہمارے لیے اس رسول کی تعلیم حجت نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ بنی اسمٰعیل میں سے ہے درست نہیں کیونکہ تمہارا رویہ بتارہا ہے کہ اگر تم میں سے کسی کو اب بھی نبی بنا دیا جاتا تو تم اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرتے جیسا کہ تم پہلے آنے والے انبیاء سے کرتے رہے ہو۔