تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 241

پڑھنے بیٹھ جائے تو نماز گو اچھی چیز ہے مگر اُس وقت عملِ صالح نہیں ہو گا اور اِس لئے نفع بخش ثابت نہیں ہو گا۔اَصْحٰبُ النَّار اور اَصْحٰبُ الْجَنْۃِ فرما کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک عارضی عذاب پانے والے اور ایک لمبا عذاب پانے والے۔ایک مستقل جنّت والے اور ایک عارضی جنت والے۔اصحاب کا لفظ ایسے ہی موقع پر استعمال ہوتا ہے جب نسبت مستقل ہو۔پس قرآنی اعتبار سے اَصْحٰبُ النَّار وہ ہیں جن کا لمبا تعلق دوزخ سے ہو اور اَصْحَابُ الْجَنَّۃ وہ ہیں جن کا لمبا تعلق جنت سے ہو۔ان کے علاوہ کچھ لوگ وہ ہوں گے جن کا دوزخ سے بھی اس قدر لمبا تعلق نہیں ہو گا جس قدر پہلے لوگوں کا۔یا جنت سے بھی اس قسم کا لمبا تعلق نہیں ہو گا جس قسم کا پہلے لوگوں کا۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عارضی عذاب والے یا عارضی جنت والے پہلے کچھ عذاب پا لیں گےاور پھر اپنے اپنے وقت پر معافی حاصل کر کے جنت میں داخل کر لئے جائیں گے جو مستقل ہو گی۔پس اَصْحٰبُ الْجَنْۃِ کے معنے ہیںجو پہلے دن سے ہی جنّت میں جائیں ورنہ یُوں تو ہر شخص ہی آخر میں جنّت میں چلا جائے گا۔آریہ قوم کی تعلیم اِس کے خلاف ہے وہ سمجھتے ہیں کہ پہلے خدا عذاب دے گا اور پیشتر اِس کے کہ عذاب مکمّل ہو انسان کو انعام دینا شروع کر دے گا کچھ مدّت انعام دے کر پھر جو گناہ بچا کر رکھ لئے جائیں گے اُن کی سزا میں دوبارہ اس کو کسی جون میں ڈال دیا جائے گا۔یہ تعلیم کینہ پر اور بُغض پر دلالت کرتی ہے اور خدا تعالیٰ کینہ اور بُغض سے پاک ہے۔وَ اِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اور (اس وقت کو بھی یاد کرو ) جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا وَّ ذِي الْقُرْبٰى وَ الْيَتٰمٰى وَ اور والدین سے احسان (کا معاملہ) کرو گے اور (اسی طرح) قرابت دار اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ بھی اور الْمَسٰكِيْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا (یہ عہدبھی لیا تھا )کہ لوگوں کے ساتھ ملاطفت کے ساتھ کلام کیا کرو اور نما ز کو قائم رکھاکرو اور زکوٰۃ ادا کیا کرو مگر