تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 240
نتیجہ تو اُس کو اِس دنیا میں مل گیا لیکن خدا تعالیٰ کی خاطر نیک کام کرنے کا نتیجہ اُس کو اِس دنیا میں نہیں ملا وہ نتیجہ مرنے کے بعد جنّت کی صورت میں ملے گا۔اگر کسی شخص نے خدا تعالیٰ کی خاطر نیک کام کیا ہے تو جہاں تک نیک کام کا تعلق ہے وہ بنی نوع انسان کے فائدہ کی چیز ہے۔بنی نوع انسان اپنے محدود ذرائع سے اُس کو محدود انعام اسی دنیا میں دے دیتے ہیں لیکن جہاں تک خدا تعالیٰ کی خاطر نیک کام کرنے کا تعلق ہے وہ دنیوی انعام اُس کا بدلہ نہیں کہلا سکتا اُس کا بدلہ خدا تعالیٰ پر الگ واجب ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کے ذرائع غیر محدود ہیں وہ اُس کے بدلہ میں اُس نیک شخص کو غیر محدود جنّت دیتا ہے پس اٰمَنُوْا کی شرط لگا کر عملِ صالح کی قیمت نہیں گھٹائی بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ عملِ صالح کے ساتھ جب ایمان لگ جائے تو اُس کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور اسی دنیا میں نہیں بلکہ اگلے جہان میں بھی اُس کا انعام ملتا ہے پس جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسلام عملِ صالح کی قیمت گراتا ہے وہ غلطی کرتے ہیں۔عملِ صالح تو انسانوں کے ساتھ کیا جاتا ہے اور انسان اس کی قیمت ادا کرتے ہی رہتے ہیں۔قرآن کریم کا اصل تعلق تو اُس عملِ صالح سے ہے جو خدا کی خاطر کیا جائے وہ یہ نہیں کہتا کہ عملِ صالح کا جب تک ایمان اُس کے ساتھ نہ ہو کوئی بدلہ نہیں ملنا چاہیے وہ تو اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسانوں کے لئے جو نیک کام کئے جائیں انسانوں کو اُن کا بدلہ دینا چاہیے اور قانونِ قدرت بھی اُن کے مناسب بدلہ کا انتظام کر دیتا ہے لیکن آیت زیر تفسیر اور اِسی قسم کی دوسری آیتوں میں وہ یہ زائد مضمون بیان کرتا ہے کہ جب کوئی شخص نیک عمل کرتے وقت یہ نیت کر لیتا ہے کہ میں یہ کام خدا کی خاطر کر رہا ہوں اور جس کے سامنے خدا تعالیٰ پر ایمان لانے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے کلام اور اُس کے رسول ؐ کی ہدایت کے مطابق نیک عمل کی ایک کامل صورت آجاتی ہے تو ایسے شخص کی جزاء یقیناً اُس پہلے شخص کی جزاء سے زیادہ ہونی چاہیے اور صرف اِسی دنیا میں اُسے جزاء نہیں ملنی چاہیئے بلکہ اگلے جہان میں بھی ملنی چاہیے کیونکہ ایمان کے ساتھ عمل کو وابستہ کر دینے کی وجہ سے اور خدا تعالیٰ کی خاطر کام کرنے کی وجہ سے جزا ء کی کمیّت اور اُس کے زمانہ کی وسعت لازماً ممتد ہو جاتی ہے۔عملِ صالح۔قرآن کریم جہاں بھی کہتا ہے عملِ صالح کہتا ہے۔عملِ صالح کے معنے ہیں مناسبِ حال عمل یعنی نماز کے موقع پر نماز۔روزہ کے موقع پر روزہ۔زکوٰۃ کے موقع پر زکوٰۃ اور جہاد کے موقع پر جہاد۔صرف نیک عمل انسان کے لئے نفع بخش نہیں ہو سکتا بلکہ مناسبِ حال عمل نفع بخش ہوتا ہے۔دوسرے عملِ صالح نے اِس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ اچھا فعل بھی بعض جگہ بُرا ہو جاتا ہے۔رحم کی جگہ انتقام اور انتقام کی جگہ رحم بھی مضر ہے پس رحم گو اچھا ہے مگر انتقام کے موقع پر رحم عملِ صالح نہیں ہو گا اور اِس لئے ناپسند یدہ فعل ہو گا۔جہاد کے موقع پر کوئی شخص نماز