تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 20
یہ کہنا کہ مسیح اپنی قوم کے گناہوں کے لئے صلیب پر لٹکائے گئے، بائبل کی تعلیم کے خلاف ہے۔شائد کوئی کہے کہ یہ تعلیم حضرت مسیح کے وقت میں منسوخ ہو گئی مگر یہ تو ایک ازلی صداقت ہے اور ازلی صداقتیں منسوخ نہیں ہوا کرتیں۔انسانوں کے متعلق احکام بدل سکتے ہیں خدا تعالیٰ کی سنّتیں نہیں بدل سکتیں۔مسیحیوں کے کفاّرہ کے متعلق دلائل اور ان کا ردّ قرآن مجید میں جن دلائل پر مسیحیت کفّارہ کی بنیاد رکھتی ہے وہ بھی عقلاً اور نقلاً غلط ہیں۔مثلاً یہ کہ انسان کو ورثہ میں گناہ ملا ہے اس لئے وہ اس پر غالب نہیں آسکتا۔گویا انسان کی فطرت ہی گنہ گار ہے۔قرآن کریم اس کو ردّ فرماتا ہے اور فرماتا ہے۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ(التین: ۵)ہم نے یقیناً انسان کو ہر قسم کی کجی سے پاک قوتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُعَلَی الْفِطْرَۃِ (بخاری کتاب الجنائز باب ما قیل فی اولاد المشرکین)ہر بچہ کامل فرمانبرداری کی رُوح لے کر پیدا ہوتا ہے۔ورثہ میں گناہ کے ملنے کی حقیقت عجیب بات ہے کہ مسیحی ایک طرف تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ورثہ کے گناہ پر انسان غالب نہیں آ سکتا۔اور اس لئے کفّارہ کے لئے ایک ایسے وجود کی ضرورت تھی کہ جو بلاباپ پیدا ہوا ہو لیکن دوسری طرف وہ اس امر کا بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دو ہی انسان جن کو ورثہ کا گناہ نہ ملا تھا یعنی آدم و حوّا وہ دونوں گنہ گار تھے۔اگر وہ دونوں انسان جنہوں نے ورثہ میں گناہ نہ پایا تھا گنہ گار تھے تو پھر یہ کیونکر معلوم ہوا کہ جن کو ورثہ میں گناہ نہ ملے وہ پاک رہ سکتے ہیں۔یہ امر تو تب ثابت ہوتا اگر کئی مثالیں ایسی بھی پائی جاتیں کہ ورثہ میں گناہ نہ پا کر لوگ بے گناہ رہ گئے ہوتے مگر مسیحیوں کے نزدیک تو دو ہی ایسے وجود تھے اور دونوں ہی گنہ گار تھے۔تیسرا وجود حضرت مسیح کا ان کے نزدیک ہے لیکن حضرت مسیح کی نسبت یہ کہنا کہ بوجہ بے باپ ہونے کے ان کو ورثہ میں گناہ نہ ملا تھا محض ایک تحکّم کا فیصلہ ہے کیونکہ بچہ صرف اپنے باپ کی قوتوں کو ورثہ میں نہیں لیتا بلکہ ماں کی قوتوں کو بھی ورثہ میں لیتا ہے۔نہ معلوم کس نادان نے اس مسئلہ کی ایجاد کرنے والے کے دل میں یہ شبہ ڈال دیا کہ بچہ صرف باپ کی خصلتیں لیتا ہے۔بچہ جس طرح باپ کی خصلتیں لیتا ہے اسی طرح ماں کی خصلتیں لیتا ہے۔بعض دفعہ بچہ باپ کی شکل پر ہوتا ہے بعض دفعہ ماں کی شکل پر۔بعض دفعہ باپ کی قوتوں کا حصّہ اس میں زیادہ ہوتا ہے بعض دفعہ ماں کی قوتوں کا۔اور بعض دفعہ برابر برابر۔پس اگر مسیح کا باپ نہ تھا تو اس سے یہ کیونکر نتیجہ نکلا کہ ان میں ورثہ کا گناہ نہ آیا تھا۔وہ حضرت مریم ؑ کے پیٹ میں پلے اور ماں کی خصوصیات کے وارث ہوئے اور عورت مسیحیوں کے نزدیک اسی طرح گنہ گار ہے۔جس طرح مرد۔بلکہ بائبل کی رُو سے شیطان نے چونکہ حوّا کے ذریعہ سے آدم ؑ کو