تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 233
زمانہ کی بائبل محفوظ نہیں تھی اور محرف و مبدّل تھی مگر یہودی تو اُس کو غیر محفوظ اور محرف مبدّل نہیں سمجھتے تھے۔جب وہ اس کو شروع سے لے کر آخر تک خدا تعالیٰ کی کتاب سمجھتے تھے تو اُن کا اس کے مضامین پر پردہ ڈالنا یا اُن میں کوئی خرابی پیدا کرنا اُن کی بے ایمانی اور بد اعمالی کی واضح دلیل تھا۔اس کے علاوہ یہ بھی سمجھ لینا چاہیئے کہ بائبل میں اُس کی موجودہ شکل میں بھی ہزاروں صداقتیں پائی جاتی ہیں پس اُن کے بدلنے سے اب بھی حق کو نقصان پہنچتا ہے۔اِس آیت کا ایک اَور مفہوم بھی ہے اور وہ یہ کہ بائبل کے متعلق یہود کا یہ یقین ہے کہ بخت نصر کے زمانہ میں وہ ضائع ہو گئی تھی پھر عزرانبی نے اُس کو دوبارہ لکھا گویا یہودی تاریخ کے مطابق بھی اصلی بائبل موجود نہیں رہی تھی بعض انسانوں نے خواہ وہ نبی ہی ہوں اُس کو دوبارہ درست کر کے لکھا پس اُس کی حیثیت محض ایسی رہ گئی جیسا کہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کی حدیثوں کی۔اور جس طرح احادیث نبویہؐ کو کتاب اﷲ نہیں کہا جا سکتا اُس کو بھی کتاب اﷲ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اِس میں غلطی کے امکان پیدا ہو گئے خصوصاً جبکہ بائبل کو حفظ کرنے کا رواج کبھی بھی بنی اسرائیل میں نہیں ہوا اور خصوصاً جبکہ خود بائبل کی اندرونی شہادتیں اِس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ بائبل اپنی اصلی شکل میں موجود نہیں بلکہ اُس میں بہت سے حواشی اور تفسیریں اور غلط روایتیں شامل ہو گئی ہیں۔پس اس آیت کے یہ بھی معنے ہو سکتے ہیں کہ یہ لوگ اپنی تاریخوں کے مطابق خود جانتے ہیں کہ یہ کتاب انسانی دست بُرد سے پاک نہیں لیکن باوجود اِس کے اصرار کرتے چلے جا رہے ہیں کہ یہ خدائی کتاب ہے بے شک ابتدامیں یہ خدائی کتاب تھی مگر اب جبکہ اس میں انسانی دستبرد سے کچھ زیادتیاں یا کمیاں پیدا ہو گئی ہیں اِسے خالص خدا کا کلام کہنا اور الہامی کتاب کے مقابلہ میں پیش کرنا زیادتی اور ظلم ہے۔عیسائی تو یہودیوں سے بھی ایک قدم آگے ہیں۔سب کی سب انجیل خدا کی کتاب کہلاتی ہے۔لیکن جب اُسے کھول کر پڑھنا شروع کرو تو لکھا ہوتا ہے متی کی انجیل۔مرقس کی انجیل۔لوقا کی انجیل۔یوحنا کی انجیل۔پطرس کے خط۔پولوس کے خط۔زید کے خط اور بکر کے خط۔یہ انسانوں کی اناجیل اور زید اور بکر کے خطوط خدا کا کلام کس طرح ہو گئے۔بے شک انجیل میں خدا کا کلام بھی موجود ہے مگر وہ خدا کی کتاب نہیں کہلا سکتی کیونکہ انسانوں نے اپنے الفاظ میں بعض باتیں لکھی ہیں جو انہوں نے خدا سے نہیں بلکہ خدا کے نبی سے سُنیں یا خدا کے نبی سے بھی نہیں سُنیں خدا کے نبی کی باتیں سن کر اُن سے ایک نتیجہ نکالا۔اور یہ حصہ بھی باقی کتاب کا دو تین فی صدی ہے۔باقی باتیں اپنے خیالات یا غیر محقق روایات پر مبنی ہیں۔ایسی کتابوں کو خدا کی کتابیں کہنا اور پھر اُن پر مذاہب کی بنیاد رکھنا اور الہامی کتابوں کے مقابلہ میں اُن کو پیش کرنا ایک بہت بڑا ظلم ہے۔