تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 229
وَ اِنْ هُمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ۔یعنی وہ تمام اقسام کے آدمی جن کا اُوپر ذکر کیا گیا ہے صرف ظن سے کام لیتے ہیں علم اُن کے ساتھ نہیں۔وہ بھی جن کو زبان کا پورا علم نہیں صرف گمان سے کام لیتے ہیں اور وہ بھی جو کہ زبان کا کچھ بھی علم نہیں رکھتے مگر لوگوں کی سنی سنائی باتوں کو خدا کا کلام قرار دے کر اپنے دماغ کو بھی اُن سے بھر لیتے ہیں اور لوگوں کے دماغوں میں بھی اُن کو بھرنے کی کوشش کرتے ہیں صرف گمان سے کام لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جس نے اُن کو بات بتائی ہے وہ ضرور سچا ہو گا۔فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ يَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَيْدِيْهِمْ اِس آیت میں ایک عجیب اختصار سے کام لیا گیا ہے یعنی بظاہر عبارت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پہلی آیت کا تتمّہ ہے اور اِس میں اُنہی لوگوں کا ذکر ہے جن کا پہلی آیت میں ذکر ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں ایک دوسرے گروہ کا ذکر کیا گیا ہے۔مگر عبارت ایسے رنگ میں رکھی گئی ہے کہ پہلی آیت کا تتمّہ معلوم ہوتی ہے۔پہلی آیت میں تو اُن لوگوں کا ذکر تھا جو عبرانی زبان سے پوری طرح واقف نہیں تھے اور بائبل کے باریک مضامین کے جانے بغیر اپنے آپ کو دھوکا دیتے تھے اور لوگوں کو گمراہ کرتے تھے یا اُن کا ذکر تھا جو صرف اِس خواہش اور آرزو میں مگن ہو رہے تھے کہ ہم نے صُحفِ بنی اسرائیل کے الفاظ پڑھ یا سُن لئے ہیں۔پس ہماری نجات کے لئے یہ امر کافی ہے۔یا اُن لوگوں کا ذکر تھا جو صُحفِ بنی اسرائیل کو پڑھتے تھے یا کچھ حصہ اس کا اُنہوں نے یاد کر لیا تھا۔مگر معنے نہ جانتے تھے۔ہاں اُنہوں نے کچھ تفسیریں علماء کی یاد کر چھوڑی تھیں اور موقع بے موقع لوگوں کو وہ تفسیریں سنا سنا کر یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ صُحفِ بنی اسرائیل کے سچے مضامین بیان کر رہے ہیں۔گویا صرف جہّال کا ذکر اس آیت میں تھا مگر آیت زیرِ تفسیر میں جُہّال کا ذکر نہیں بلکہ علماء کا ذکر ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ اُن یہودیوں پر جو اپنے ہاتھوں سے کتابیں لکھتے ہیں اور پھر لوگوں سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے عذاب نازل ہو گا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں علماء کا ذکر ہے نہ کہ جُہّال کا۔اِس پرسوال ہوتا ہے کہ پھر اس آیت کو فَاء سے کیوں شروع کیا گیا جس کے معنے ’’ پس‘‘ کے ہیں اور پس کا لفظ یہ بتاتا ہے کہ پہلے مضمون کے نتیجہ میں یہ دوسرا مضمون پیدا ہوا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم پر چونکہ لاتعداد مضامین بیان کرنے کی ذمہ واری ہے اِس لئے ایسی عبارت میں نازل کیا گیا ہے جو اختصار کا کمال اپنے اندر رکھتی ہے۔پہلی آیت میں جُہّال کا ذکر تھا جو علماء کی غلط سلط تفسیروں پر اعتماد کر کے خود بھی گمراہ ہو رہے تھے اور دوسروں کو بھی گمراہ کر رہے تھے اور دوسری آیت میں اُن لوگوں کا ذکر کیا جانا مقصود تھا جو عالم ہوتے ہوئے سچی دینداری سے عاری تھے اور لوگوں کو گمراہ کر رہے تھے۔اگر مستقل طور پر اُن لوگوں کا ذکر کیا جاتا تو عبارت لمبی ہو جاتی۔پس اﷲ تعالیٰ نے پہلی