تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 228

دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ سچے مذہب پر ایمان لایا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ جس کو قرآن کے معنے نہ آئیں اُس کو قرآن کریم پڑھنا بھی نہیں چاہیے ایسی تلاوت کم سے کم اُسے اُس کے مدّعا کی یاد تو دلاتی رہتی ہے۔لیکن اُس کے دل میں معنوں کے جاننے کی خواہش تو ہونی چاہیے اوراُن کے سیکھنے کے لئے اُسے کچھ کوشش تو کرنی چاہیے اگر یہ خواہش موجود ہو اگر اس قسم کی کوشش جاری ہو تو بے شک خدا اور اُس کے رسول کے سامنے ایسا آدمی بری قرار دیا جائے گا۔لیکن جب کوشش مفقود ہو اور خواہش کا وجود ہی نہ ہو تو ایساآدمی صرف اپنی تمنّاؤں سے خدا تعالیٰ کو کس طرح خوش کر سکتا ہے۔ایک معنے اُمْنِیَّۃٌ کے جو اَمَانِیُّ کا مفرد ہے جھوٹ کے ہیں اور اِن معنوں کے رُو سے آیت کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ یہود میں سے کچھ لوگ اَنْ پڑھ ہیں جو کتاب کے متعلق کچھ علم نہیں رکھتے سوائے کچھ جھوٹوں کے۔اِس سے مراد یہ ہے کہ قوم کے کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو کلامِ الہٰی کے معنے تو نہیں جانتے لیکن اُنہیں یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ دنیا یہ سمجھے کہ اُنہیں کلامِ الہٰی کے معنے آتے ہیں۔گویا علم نہ رکھتے ہوئے عالم کہلانے کا شوق اُن میں ہوتا ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِس قسم کے یہود بھلا کیا فائدہ اُٹھا سکتے ہیں یا دوسروںکو کیا فائدہ پہنچا سکتے ہیں یا اِس بات کے کب حقدار ہو سکتے ہیں کہ خدا کا فضل اُن پر نازل ہوتا رہے۔وہ تو دین کے دشمن ہیں کہ اپنی جہالت کو خدا تعالیٰ کے سر منڈھ کر اُس کی ہتک کرتے ہیں اور پھر اس جہالت کو لوگوں میں پھیلا کر بھولے بھالے سادہ انسانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔افسوس آج مسلمانوں میں بھی اس قسم کی جماعت کثرت سے موجود ہے۔ایسے لوگ اِن میں بھی موجود ہیں جو قرآن کریم کو لفظًا بھی نہیں پڑھ سکتے۔مگر وہ اِدھر اُدھر سے سُنے ہوئے قصّوں کو خدا اور اُس کے رسول کی طرف منسوب کر کے لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں اور پھر اصرار کرتے ہیں کہ اُن قصّوں پر یقین کیا جائے اور اُن پر ایمان لایا جائے اور اُن کے احکام پر عمل کیا جائے۔اور ایسے بھی ہیں جو عربی زبان کا معمولی سا علم رکھتے ہیں لیکن اُن میں یہ قابلیت نہیں ہے کہ وہ عربی زبان کی باریکیوں کو سمجھ سکیں اور وہ قرآنِ کریم کے متعلق اپنے ناقص علم کے ذریعہ آپ بھی گمراہ ہوتے ہیں اور لوگوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔اور ایسے بھی ہیں جو قرآن کریم کی لفظی تلاوت کر سکتے ہیں مگر اُن لوگوں پر جو لفظی تلاوت بھی نہیں کر سکتے یہ رُعب ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ قرآن کریم کے علوم کے ماہر ہیں یہی لو گ اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔اگر قرآن کریم کے پڑھنے اور جاننے کی کوشش کی جاتی اور اُس کے مطالب پر صحیح غور کیا جاتا اور جھوٹوں اور آرزؤوں کی پیروی نہ کی جاتی تو اسلام کو وہ دن دیکھنا نہ پڑتا جو آج ہر مخلص مسلمان کے دل کو غمگین کر رہا ہے۔