تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 225

اُسے بھی جانتا ہے جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔یعنی قرآن کریم میں ایسی اخبار بھی موجود ہیں جو اِن یہودیوں نے بیان نہیں کیں اور وہ بھی ہیں جو اُنہوں نے بیان کیںاس سے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ جو انہوں نے بیان کی ہیں اگر وہ بیان نہ کرتے تب بھی اِس سے قرآن کریم کے مضامین میں کمی نہیں آ سکتی تھی۔مخالفینِ صداقت ہمیشہ سے ماموروں پر یہ اعتراض کرتے چلے آئے ہیں کہ وہ زمانہ کی رَو کی پیداوار ہیں۔اس زمانہ میں جو خیالات زور پر ہوتے ہیں اُن سے متأثر ہو کر وہ اپنے لئے ایک مقام تجویز کر لیتے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب کبھی خدا تعالیٰ کسی مامور کو مبعوث کرنے لگتا ہے اُس کے آنے سے پہلے لوگوں کی توجہ ایک آنے والے مامور کی طرف پھیر دی جاتی ہے۔بعض سابق پیشگوئیوں کے متعلق لوگ خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ وہ اس زمانہ میں پوری ہوں گی۔اور بعض علامات سے وہ یہ استدلال کرنے لگ جاتے ہیں کہ اِسی زمانہ میں وہ موعود مامور آئے گا اور ایسا ہونا ہی چاہیے کیونکہ بعثتِ مامور کے وقت اُس کے ماننے کے لئے دنیا میں سامان پیدا کرنا ایک ضروری امر ہے جسے خدا تعالیٰ نظر انداز نہیں کر سکتا۔پس جب وہ مامور آتا ہے تو وہ اُن پیشگوئیوں سے بھی فائدہ اُٹھاتا ہے جن کی طرف اُس کی آمد سے پہلے علماء زمانہ کی نگاہیں اُٹھ چکی ہوتی ہیں۔اس سے یہ استدلال کر لینا کہ مامورین زمانہ کی پیداوار ہیں ایک نہایت ہی بودا اعتراض ہے۔کیا اِن معترضین کا یہ خیال ہے کہ اﷲ تعالیٰ کو نبی پہلے بھیجنا چاہیے اور اُس کی شناخت کے سامان بعد میں پیدا کرنے چاہئیں؟ اگر خدا تعالیٰ ایسا کرے تو اِس کے معنے تو یہ ہوں گے کہ وہ خود دنیا کو ہدایت سے محروم کرنا چاہتا ہے۔یا پھر کیا ان لوگوں کی یہ خواہش ہے کہ نبیوں کی شناخت کے سامان تو پہلے سے مہیّا کر دیئے جائیں اور پہلے نبیوں کی بعض پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے آثار بھی ظاہر کر دیئے جائیں لیکن وہ نبی اُن پیشگوئیوں سے فائدہ نہ اُٹھائے ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ وہ دوسروں کے خیالات سے متاثر ہے۔ادنیٰ غور سے یہ بات معلوم ہو سکتی ہے کہ یہ خیال بھی بالکل باطل ہے۔جس چیز کو خدا تعالیٰ نے سچائی کے ظاہر کرنے کے لئے بطور دلیل مہیا کیا ہے اِس سے فائدہ نہ اُٹھانا تو خدا اور اُس کے دین سے غدّاری ہے اور نبی غدّار نہیں ہوتا۔پس اس قسم کے اعتراضات خواہ وہ پہلے نبیوں پر ہوئے ہوں یا محمد رسول اﷲ صلے اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم پر ہوئے ہوں یا آپ کے بعد کسی کے متعلق ہوں بالکل لغو ہیں۔اﷲتعالیٰ نے آیت زیر تفسیر میں نہایت عمدگی سے اس کو ردّ کر دیا ہے اور فرماتا ہے کہ وہ باتیں بھی ہماری کتاب میں موجود ہیں جن کو تم بیان کرتے ہو اور وہ باتیں بھی موجود ہیں جن کو تم بیان نہیں کرتے یا بیان نہیں کر سکتے۔خدا تو ساری ہی باتوں کا واقف ہے اُس کی طرف سے آنے والی کتاب کسی کے بتائے ہوئے علم کی محتاج نہیں۔مگر وہ یہ بھی تو نہیں کر سکتی کہ چونکہ کسی اَور نے