تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 220

لِيُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۰۰۷۷ کہ وہ اس کے ذریعہ سے تمہارے رب کے حضور میں تم سے بحث کریں۔کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔تفسیر۔پہلی آیت میں تو یہ بتایا گیا تھا کہ یہودی لوگ مسلمانوں کے ساتھ سلوک کرنے میں ایسا تعصّب برتتے ہیں کہ قرآن کریم کے مطالب کو دیدہ و دانستہ بگاڑ کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور اس طرح مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو برانگیختہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہتے ہیں۔اب آیت زیر تفسیر میں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام کے ساتھ جو اُن کا تمسخر کا طریق ہے اس کے علاوہ خود مسلمانوں کے ساتھ بھی ان کا سلوک غیر مخلصانہ ہے وہ جب مسلمانوں سے ملتے ہیں تو اُن کے سامنے یوں اظہار کرتے ہیں کہ گویا وہ دل سے اسلام کی سچائی کے قائل ہیں بلکہ اُن کے سامنے وہ ایسے دلائل بھی بیان کرتے ہیں جنہوں نے اُن کو اسلام کی سچائی کا قائل کر دیا اور اپنی کتابوں کی ایسی پیشگوئیاں بیان کرتے ہیں جو ان کے نزدیک رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم پرچسپاں ہوتی اور آپ کی سچائی کو ظاہر کرتی ہیں۔لیکن اس کے بعد جب وہ اپنے دوستوں کے پاس جاتے ہیں تو ایک دوسرے پر اعتراض کرتے ہیں کہ تم کیوں ایسی باتیں مسلمانوں کے سامنے بیان کرتے ہو جن سے اُنہیں تمہارے مذہب کے خلاف حجت قائم کرنے میں مدد ملتی ہے۔اُن کی اِس کارروائی سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ یہودیوں کی مخالفت محض مذہبی مخالفت ہی نہیں بلکہ سیاسی اور تمدّنی طور پر بھی وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں کیونکہ وہ صرف مذہب پر ہی اعتراض نہیں کرتے بلکہ اُن کی مسلمانوں کے ساتھ دوستیاں بھی سنجیدہ نہیں اور اُن میں بھی فریب اور پُرکاری کے جذبات کار فرماہیں۔یہودیوں کے اخلاق کا جو پہلو اِس آیت میں بیان کیا گیا ہے وہ بھی نہایت ہی خطرناک ہے۔یہودی لوگ مسلمانوں سے ملتے۔اُن سے دوستیوں کا اظہار کرتے اور کہتے کہ ہم بھی دل سے اسلام کی صداقت کے قائل ہیں۔لیکن جب اُن سے علیحدہ ہوتے تو آپس میں ایک دوسرے کو زجر کرتے کہ تم نے کیوں اُن باتوں کو جو اﷲتعالیٰ نے تم پر کھولی ہیں مسلمانوں پر ظاہر کیا۔اِس کا نتیجہ تو یہ ہو گا کہ وہ اِن باتوں کو تمہارے خلاف استعمال کریںگے۔گویا وہ یہ تو تسلیم کرتے تھے کہ جن باتوں کا اُنہوں نے مسلمانوں سے ذکر کیا ہے وہ خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی ہیں اور اس امر کو بھی تسلیم کرتے تھے کہ وہ باتیں اسلام کی تائید میں ہیں۔لیکن وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ اُن باتوں کا مسلمانوں کو علم ہو تا ایسا نہ ہو کہ وہ اُنہیں یہودیت کے خلاف استعمال کریں۔گویا اُن کے نزدیک خدا تعالیٰ کی بات بیشک جھوٹی نکلے ،