تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 214
هُمْ يَعْلَمُوْنَ۰۰۷۶ بد نتائج کو خوب )جانتے ہیں۔حَلّ لُغَات۔تَطْمَعُوْنَ۔طَمِعَ سے مضارع جمع مذکّر مخاطب کا صیغہ ہے اور طَمِعَ فِیْہِ ( یَطْمَعُ) کے معنے ہیں حَرِصَ عَلَیْہِ کسی چیز کو حاصل کرنے کے لئے دل میں خواہش نے جوش مارا۔( اقرب) مفردات میں ہے اَلطَّمْعُ نُزُوْعُ النَّفْسِ اِلَی الشَّیْ ءِ شَھْوَۃً لَہٗ کہ کسی شے کے حصول کے لئے طبیعت کا انتہائی اشتیاق طمع کہلاتا ہے نیز طَمِعَ فِیْہِ وَ بِہٖ کے معنے ہیں حَرِصَ عَلَیْہِ وَرَجَاہُ کسی چیز کے حصول کی خواہش کی اور اس کو حاصل کرنے کی امیدرکھی ( تاج ) اَلطَّمْعُ ضِدُّ الْیَأْسِ کہ طمع کے ایک معنے امید کے بھی ہیں۔(لسان) پس اَفَتَطْمَعُوْنَ کے معنے ہوں گے (۱) کیا تم امید رکھتے ہو (۲) کیا تم خواہش رکھتے ہو۔اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَکُم۔یُؤْمِنُوْا اصل میں یُؤْمِنُوْنَ ہے اَنْ پہلے آنے کی وجہ سے ن گِر گیا باقی یُؤْمِنُوْا رہ گیا۔یہ اٰمَنَ سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور اٰمَنَ لَہٗ کے معنے ہیں خَضَعَ وَ انْقَادَ کسی کے سامنے عاجزی کا اظہار کیا اور اس کی بات کو مان لیا اور اٰمَنَ بِہٖ کے معنے ہیں صَدَّقَہٗ اس کو سچا قرار دیا۔اور جب اٰمَنَہٗ کہیں تو اس کے معنے ہوں گے اس کو امن بخشا۔(اقرب) پس اَفَتَطْمَعُوْنَ۠ اَنْ يُّؤْمِنُوْا لَكُمْ کے معنے ہوں گے کیا تم امید رکھتے ہو کہ وہ تمہاری بات مان لیں گے۔فَرِیْقٌ۔اَلْفَرِیْقُ: اَلطَّائِفَۃُ مِنَ النَّاسِ لوگوں کا گروہ۔اَکْثَرُ مِنَ الْفِرْقَۃِ۔فِرْقۃٌ کے معنے بھی اَلطَّائِفَۃُ مِنَ النَّا سِ کے ہیں لیکن فریق کا لفظ فِرقہ سے بڑے گروہ پر بھی جو کسی بڑی جماعت کا حصّہ ہو استعمال ہوتا ہے وَرُبَّمَا اُطْلِقَ الْفَرِیْقُ عَلَی الْجَمَاعَۃِ قَلَّتْ اَوْکَثُرَتْ بعض اوقات لفظ فریق سے کسی بڑی جماعت کے حصّہ کی بجائے خود ایک مستقل جماعت بھی مراد لی جاتی ہے خواہ اس کے افراد تھوڑے ہوں یا زیادہ۔(اقرب) یُحَرّفُوْنَہٗ۔یُحَرِّفُوْنَہٗ حَرَّفَ سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور حَرَّفَہٗ کے معنی ہیں غَیَّرَہٗ کسی چیز کو اس کی اصلی حالت سے تبدیل کر دیا اور حَرَّفَ الْکَلَامَ کے معنی ہیں غَیَّـرَہٗ عَنْ مَّوَا ضِعِہٖ کسی کلام کے الفاظ کو ان کی جگہوں سے تبدیل کر دیا۔( اقرب) امام راغب لکھتے ہیں تَحْرِیْفُ الْکَلَامِ اَنْ تَجْعَلَہٗ عَلٰی حَرْفٍ مِّنَ الْاِحْتِمَـالِ یُمْکِنُ حَمْلُہٗ عَلَی الْوَجْھَیْنِ یعنی کسی کلام میں تحریف کرنے سے یہ مراد ہوتی ہے کہ کلام میں جس رنگ