تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 211

اَوْ کا لفظ اس جگہ پر شک کے لئے نہیں آیا بلکہ مراد یہ ہے کہ کچھ لوگوں کے دل پتھروں کی طرح سخت ہیں اور کچھ لوگوں کے دل اُن سے بھی سخت ہیں۔وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُپھر فرماتا ہے ہم نے جو یہ کہا کہ یہ پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہو گئے ہیں تو اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ پتھروں میں سے بھی بعض ایسے ہوتے ہیں کہ وہ پانی کے دباؤ سے پھٹ جاتے ہیں اور اُن کے بیچ میں سے نہریں بہنے لگ جاتی ہیں چنانچہ یہ نظارے کثرت سے پہاڑوں میں نظر آتے ہیں کہ اونچی برفوں سے بہنے والے زمین دوز پانیوں کے دباؤ سے کئی جگہ پر پتھریلی زمینیں شق ہو جاتی ہیں اور اُن میں سے پانی پہنے لگتا ہے۔مگر یہودی لوگ کچھ ایسے سخت دل ہو گئے کہ خدا کے کلام کی نہر جاری ہوئی مگر اُن کے دلوں نے اس کو کوئی راستہ نہ دیا اور خدا تعالیٰ کی آیات کا ظَاہِرًاوَ بَاطِنًا انکار ہی کرتے چلے گئے۔وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ۔اور ان میں سے ( یعنی پتھروں میں سے ) بعض ایسے بھی ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو اُن میں سے پانی نکلتا ہے یعنی کوئی بڑا چشمہ تو اُن میں سے نہیں نکلتا مگر تھوڑا تھوڑا پانی اُن میں سے نکلنا شروع ہو جاتا ہے گویا اس جگہ پر اس بات کی مثال دی ہے کہ بعض لوگوں سے کم نیکی کا ظہور ہوتا ہے اور بعض لوگوں سے زیادہ نیکی کا ظہور ہوتا ہے۔بعض لوگ تو اُن پتھروں کے مشابہ ہوتے ہیں جن کے پیچھے سے بڑے بڑے چشمے بہتے ہیں یعنی شروع میں تو وہ صداقت کا مقابلہ کرتے ہیں مگر آخر صداقت کے اثر کو قبول کر لیتے اور اسے رستہ دے دیتے ہیں اور اس حد تک اُس سے اثر پذیر ہوتے ہیں کہ صداقت بڑے زور سے اُن میں سے نکلنی شروع ہو جاتی ہے اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ شروع میں تو صداقت کا مقابلہ کرتے ہیں مگر آخر اُسے رستہ دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں لیکن اُن کا تأ ثر زیادہ شدید نہیں ہوتا۔صداقت اُن سے نکلتی ہے مگر کم مقدار میں۔لیکن فرماتا ہے یہود میں سے اکثر لوگ اس درجہ کے بھی نہیں ہیں وہ پتھروں سے بھی زیادہ سنگ دل ہیں۔وہ کسی صورت میں بھی خدائی صداقتوں کو نکلنے کے لئے رستہ نہیں دیتے۔نہ چھوٹا رستہ نہ بڑا۔پھر فرماتا ہے وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ اس فقرہ کے دو طرح معنے کئے جا سکتے ہیں۔ایک تو اس طرح کہ ھَا کی ضمیر پتھروں کی طرف پھیری جائے اور معنے یہ کئے جائیں کہ پتھروں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو خشیت اﷲ سے گر جاتے ہیں اس سے یہ مراد نہیں کہ پتھروں میں عقل اور امتیاز کا مادہ پایا جاتا ہے اور وہ بھی خدا تعالیٰ کے خوف کو اسی طرح محسوس کرتے ہیں جس طرح کہ انسان محسوس کرتا ہے بلکہ اس جگہ پر خشیت کا مضاف محذوف ہے (تصریح جلد دوم) اور مراد یہ ہے کہ خشیت اﷲ پیدا کرنے کے اسباب سے گر جاتے ہیں۔جیسے آندھیاں ہیں،