تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 208
الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ دریا بہتے ہیں اور بعض ان میں سے ایسے (بھی) ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں تو ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے اِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ اور ان (یعنی دلوں ) میں سے (بھی) بعض ایسےہیں کہ اللہ کے ڈر سے (معافی مانگتے ہوئے)گر جاتے ہیں عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۰۰۷۵ اور جو (کچھ )تم کر رہے ہو اللہ اس سے ہرگز بے خبر نہیں ہے۔حَلّ لُغَات۔قَسَتْ۔قَسَا سے مؤنث کا صیغہ ہے اور قَسَاقَلْبُہٗ (یَقْسُوْ قَسْوًا وَ قَسَاوَۃً) کے معنی ہیں صَلُبَ وَ غَلَـظَ اس کا دِل سخت ہو گیا اور جب لفظ قَسَا درہم کے متعلق استعمال کریں اور کہیں قَسَا الدِّرْھَمُ تو اس کے معنے ہوتے ہیں زَافَ کہ سکّہ خالص دھات کا نہیں ہے اس کے اندر مِلاوٹ کر دی گئی ہے (اقرب) اَلْقَسْوَۃُ۔اَلصَّلَا بَۃُ فِیْ کُلِّ شَیْ ءٍ یعنی ہر چیز کی سختی کو قَسْوَۃٌ سے تعبیر کرتے ہیں اور جب قَسْوَۃٌ کا لفظ قلب کے لئے استعمال کریں تو اس کے معنے ہوںگے۔ذِھَابُ اللِّیْنِ وَالرَّحْمَۃِ وَالْخُشُوْعِ دل سے نرمی، شفقت اور خشوع کا نکل جانا۔(لسان)پس قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ کے معنے ہوں گے کہ (۱)تمہارے دِل سخت ہو گئے۔(۲) تمہارے دل نرمی، شفقت اور خشوع سے خالی ہو گئے۔اَلْحِجَارَۃُ۔اَلْـحَجَرُ کی جمع ہے اور اَلْـحَجَرُ کے معنی ہیں اَلْجَوْھَرُالصُّلْبُ پتھر (مفردات) اس کی جمع اَحْجَارٌ بھی آتی ہے اور حَجَرَانِ سونے اور چاندی کو کہتے ہیں۔(اقرب) یَتَفَجَّرُ۔یَتَفَجَّرُ تَفَجَّرَ سے مضارع واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے اور تَفَجَّرَالْمَاءُ کے معنی سَالَ الْمَاءُ وَ جَرٰی پانی بہہ پڑا(اقرب) پس یَتَفَجَّرُ کے معنے ہوں گے بہہ پڑتے ہیں۔اَلْاَنْھَارُ۔اَلنَّھْرُ کی جمع ہے او ر اَلنَّھْرُ کے معنے ہیں مَـجْرَی الْمَاءِ الْفَائِضِ بہنے والے پانی کے چلنے کی جگہ۔وَجَعَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی ذٰلِکَ مَثَـلًا لِّمَایُدِرُّمِنْ فَیْضِہٖ وَفَضْلِہٖ فِی الْجَنَّۃِ عَلَی النَّاسِ قَالَ۔اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍ(القمر:۵۵) اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ سے بطور مثال کے اپنے اس فیض اور فضل کو جو اس کے بندوں پر جنت میں بکثرت نازل ہو گا بیان کیا ہے۔جیسے کہ فرمایا اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍ کہ متقی باغات اور نہروں