تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 206
اس کے بعد فرماتا ہے كَذٰلِكَ يُحْيِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى۔اﷲ تعالیٰ اسی طرح مُردوں کو زندہ کرتا ہے یعنی انبیاء کی جماعتوں کو لوگ تباہ کرنا چاہتے ہیں اور نبیوں کو قتل کر کے اُن کو مٹانا چاہتے ہیں مگر جس قسم کے انبیاء کو قتل سے محفوظ رکھنے کا خدا تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ ہے وہ ان نبیوں کو دشمنوں کے حملوں سے ضرور بچاتا ہے اور جب دشمن اُنہیں اپنی طرف سے مار چکا ہوتا ہے تو وہ اپنی حفاظت کے ذریعہ سے گویا اُن کو دوبارہ زندگی بخشتا ہے۔یہ اﷲ تعالیٰ کی سنّت ہے کہ سلسلۂ روحانیہ کے پہلے اور آخری نبی کے قتل پر اُن کے دشمن کبھی تسلّط نہیں پاتے کیونکہ قومی احیاء کا حقیقی نمونہ ان ہی دو نبیوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے جیسے کہ موسوی سلسلہ میں پہلے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے اور آخری حضرت مسیح علیہ السلام تھے جو احیاء بنی اسرائیل کا ان دو نبیوں کے ذریعہ سے ہوا درمیانی انبیاء کا کام ان کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ان انبیاء کو اﷲ تعالیٰ ہر حالت میں دشمنوں کے حملوں سے بچاتا ہے اسی طرف كَذٰلِكَ يُحْيِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى میںاشارہ ہے اور بتایا گیا ہے کہ جن کو خدا تعالیٰ موت سے بچانا چاہے اُنہیں کوئی مارنے پر قادر نہیں ہو سکتا دوسرے اس احیاء کی طرف بھی اشارہ ہے جو ان انبیاء کے ذریعہ سے دنیا میں ہوتا ہے اور یہ بتایا ہے کہ جو لوگ کسی سِلسلہ کے اوّل اور آخری نبی کو مارنا چاہتے ہیں اﷲ تعالیٰ انہیں ضرور ہلاک کرتا ہے کیونکہ اگر وہ ہلاک نہ کئے جائیں تو دنیا زندہ نہیں ہو سکتی پس ان کی ہلاکت پر اعتراض کرنا حماقت ہے اعتراض تو اس صورت میں ہوتا کہ ان انبیاء کے ایسے دشمن جو انہیں ہلاک کرنا چاہیں خود ہلاک نہ ہو جائیں۔وَ يُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ سے یہ بتایا کہ اس قسم کے نشانوں کی غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو ان کی شرارتوں سے روکا جائے اور نیکی کی طرف لایا جائے۔یہود کو سزائیں ملیں اور رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم اور ان کی جماعت کو خدا تعالیٰ نے ہر قسم کے ظاہر اور خفیہ حملوں سے محفوظ رکھا۔اس میں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں ایک بڑا نشان تھا چنانچہ کچھ یہودی مسلمان بھی ہو گئے مگر قوم کے بیشتر حصّہ نے ان نشانوں سے کوئی فائدہ نہ اُٹھایا۔غرض ان دونوں آیتوں میں جو اوپر گزریں اُس عظیم الشان اعتراض کا جواب دیا گیا ہے جو عیسائی اور یہودی آج تک رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم پر کرتے چلے آتے ہیں کہ آپ نے کیوں کعب بن اشرف اور ابورافع سلام بن ابی الحقیق کو قتل کرایا اور بتایا ہے کہ ان لوگوں کی شرارتوں کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ بعض مسلمان مارے گئے بلکہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے قتل کرنے کی سازشیں بھی ہوئیں اور کسی جماعت کے امام یا کسی ملک کے بادشاہ کے قتل کا ارادہ درحقیقت اُس ساری قوم کے قتل کے برابر ہوتا ہے۔یورپ کے لوگوں نے بھی ایسے جرم کو ایک