تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 205

اِضْرِبُوْہُ کے الفاظ استعمال کئے گئے اور مراد یہ ہے کہ اِضْرِ بُوْہُ بِالسَّیْف اُس پر تلوار سے حملہ کرو۔بِبَعْضِہَا میں بَاء تعلیل کے معنے دیتی ہے اور مراد یہ ہے کہ اس کے بعض کے سبب سے یا بعض کی وجہ سے۔اور بعض کے بعد اِثْمٌ یعنی گناہ یا ایسا ہی کوئی اور لفظ محذوف ہے جو عربی قاعدہ کے رُو سے اکثر محذوف ہو جایا کرتا ہے۔پس سارے جملہ کے معنے یہ ہوئے کہ ہم نے کہا قاتل پر اس کے گناہ کے بعض حصّے کی وجہ سے تلوار کے ساتھ حملہ کرو۔بعض حصّہ اس لئے کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف کا گناہ صرف اس دنیا کی سزا کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا تھا اور اس کے گناہ کی سزا کو اُس کا قتل کیا جانا ڈھانپ نہیں سکتا تھا بلکہ وہ اس بات کا مستحق تھا کہ اگلے جہان میں بھی اُس کو خالص خدائی عذاب میں مبتلا کیا جائے۔چنانچہ قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ قاتلوں کے متعلق فرماتا ہے وَ مَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْهَا ( النِّسَآء :۹۴)جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر مار دے اس کی سزا جہنّم ہے جس میں وہ دیر تک بستا چلا جائے گا۔لیکن قرآن کریم سے یہ ثابت ہے کہ ایسے شخص کی یہ بھی سزا ہے کہ اُسے قتل کیا جائے پس معلوم ہوا کہ قاتل کو دو۲ سزائیں ملتی ہیں۔ایک اس دنیا میں قتل کے ذریعہ سے اور ایک اگلے جہان میں جہنّم میں ڈال کر۔پس بِبَعْضِ اِثْمِھَا سے مراد یہ ہوئی کہ تم اپنے حصّہ کی سزا اسے قتل کے ذریعہ سے دے لو۔دوسرے حصّہ کی سزا ہم خود اسے اُس کی موت کے بعد دیں گے۔فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَامیں بِبَعْضِہَا سے مراد یہ جو مَیں نے بتایا ہے کہ بِبَعْضِہَا میں بَاء حرف تعلیل کے طور پر استعمال ہوئی ہے ان معنوں میں باء کے استعمال کی مثالیں قرآن کریم میں بھی ملتی ہیں اﷲتعالیٰ فرماتا ہے فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ (المآئدۃ:۱۴)ہم نے ان کے عہد توڑ دینے کے سبب سے اُن پر لعنت کی اور یہ جو میں نے لکھا ہے کہ ھَا کا مضاف یعنی اِثْمٌ کا لفظ حذف کیا گیا ہے اس کا استعمال بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ (المآ ئدة:۴)تم پر مُردہ حرام کیا گیا ہے حالانکہ مردہ حرام نہیں ہوتا۔مُردے کا کھانا حرام ہوتا ہے پس اصل الفاظ یہ ہیں حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اَکْلُ الْمَیْتَۃِ تم پر مُردے کا کھانا حرام کیا گیا ہے۔اسی طرح قرآن کریم میں آتا ہے وَ سْـَٔلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا وَ الْعِيْرَ الَّتِيْۤ اَقْبَلْنَا فِيْهَا ( یوسف :۸۳)تم اس بستی سے پوچھو جس میں ہم تھے اور عیرسے پوچھو جن کے ساتھ واپس آئے ہیں حالانکہ بستی مکانوں کے مجموعہ کا نام ہے۔عِیْرکے معنے گدھوں کے ہیں۔نہ کوئی مکانوں سے پوچھا کرتا ہے اور نہ گدھوں سے پوچھتا ہے۔پس بستی سے بستی والے اور گدھوں سے گدھوں والے مراد ہیں۔اور مالک کا لفظ یا صاحب کا لفظ جو قریہ اور عِیر کی طرف مضاف تھا اسے حذف کر دیا گیا ہے اور مراد یہ ہے کہ اِسْئَلُوْا اَھْلَ الْقَرْیَۃِ وَ اَصْحَابَ الْعِیْرِ۔