تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 17
کے حامی ہو اب آؤ کہ ہم باہم حجّت کریں۔خداوند کہتا ہے اگرچہ تمہارے گناہ قرمزی ہوویں۔پر برف کی مانند سفید ہو جائیں گے اور ہر چندوے ارغوانی ہوویں پر اُون کی مانند اُجلے ہوں گے۔‘‘ (یسعیاہ باب۱ آیت ۱۶ تا ۱۸) اسی بارہ میں میکاہ نبی فرماتے ہیں’’ مَیں کیا لے کے خداوند کے حضور میں آؤں اور خدا تعالیٰ کے آگے کیونکر سجدہ کروں۔کیا سو ختنی قربانیوں اور یک سالہ بچھڑے کو لیکر اس کے آگے آؤں گا۔کیا خداوند ہزاروں مینڈھوں سے یا تیل کی دس ہزار نہروں سے خوش ہو گا۔کیا مَیں اپنے پلوٹھے کو اپنے گناہ کے عوض اپنے پیٹ کے پھل کو اپنی جان کی خطا کے بدلے میں دے ڈالوں گا۔اے انسان اس نے تجھے وہ دکھایا ہے جو کچھ کہ بھلا ہے اور خداوند تجھ سے اور کیا چاہتا ہے مگر یہ کہ تو انصاف کرے اور رحم دلی کو پیدا کرے اور اپنے خدا کے ساتھ فروتنی سے چلے۔‘‘ (میکاہ باب۶ آیت ۶تا۸)اُوپر کے حوالوں سے ثابت ہے کہ یہود کے دلوں میں یہ عقیدہ گھر کر چکا تھا کہ قربانیاں ان کے گناہوں کا کفّارہ ہو جاتی ہیںاور مختلف نبیوں نے انہیں اس عقیدہ سے ہٹانے کی کوشش کی اور انہیں بتایا کہ اﷲ تعالیٰ بکروں، بیلوں بلکہ پلوٹھے لڑکوں کی قربانی تک سے خوش نہیں ہو سکتا۔سابقہ گناہوں کے بد اثر سے بچنے کا صرف یہی ذریعہ ہے کہ انسان دل سے اور زبان سے توبہ کرے اور را ستبازی اور نیکوکاری کو اپنے عمل سے پھر قائم کرے۔تب اﷲ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔مگر نبیوں کی یہ تعلیم دیر پا ثابت نہ ہوئی۔بکروں اور بیلوں کی قربانی کی عظمت تو یہود کے دلوں سے کچھ کم ہوئی۔مگر ایک اور قسم کا کفارہ انہوں نے ایجاد کر لیا اور وہ یہ کہ ہمارے بزرگوں کی تکالیف ہماری قوم کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہیں اور اگر نیکوکار کسی زمانہ میں موجود نہ ہوں تو بے گناہ بچوںکو اﷲ تعالیٰ مار کر قوم کے گناہوں کا کفّارہ کر دیتا ہے چنانچہ یہود کی کتب میں لکھا ہے ’’ جس نسل میں نیک لوگ نہ ہوں بے گناہ سکول کے بچوں کو خدا تعالیٰ لے جاتا ہے۔‘‘ ( جیوش انسا ئیکلو پیڈیا زیر لفظ Atonement بحوالہ شبات طالمود ) کفارہ کے متعلق مسیحی عقیدہ یہی خیال تھا جس نے بعد میں مسیحی کفّارہ کے عقیدہ کے بننے میں مدد دی۔قرآن کریم ان یہود کو مخاطب کر کے اس آیت میں فرماتا ہے کہ اے یہود بنی اسرائیل کوئی جان (خواہ بکرا ہو، خواہ بزرگ ،خواہ بے گناہ سکول کا بچہ ) کسی اور جان ( یہودی ) کی قائم مقام نہیں ہو سکتی اور قرآن کریم کی اس تعلیم سے جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے خود بنی اسرائیل کے نبیوں کو اتفاق ہے۔بنی اسرائیل کا دوسرا حصہ وہ ہے جو مسیحی ہو چکا تھا۔ان کا عقیدہ یہ تھا کہ مسیح نے صلیب پر موت پا کر مسیحیوں کے گناہوں کو اُٹھا لیا۔مسیحیوں کا عقیدہ ہے کہ قربانی جس کا حضرت موسیٰ ؑ نے حکم دیا تھا مسیح کی آمد کی خبر تھی۔اور اس سے اس خیال کو تازہ رکھا گیا تھا کہ خدا کا ایک برّہ یعنی مسیح دنیا میں آ کر قربان ہو گا اور دنیا کے گناہ اُٹھالے گا۔وہ کہتے