تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 204

ایسے سامان ضرور کرے گا کہ جن سے تمہارے یہ قومی ارادے ایک دن پوری طرح ننگے ہو جائیں گے۔ان دوسرے معنوں کی رو سے وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ کاجملہ یہودیوں کے اندرونہ کی وقتی پردہ دری پر دلالت کرنے کے علاوہ ایک ضمنی جملہ کے طور پر آئندہ کے لئے ایک پیشگوئی بھی قرار دیا جائے گا۔اگر کہا جائے کہ پہلے معنوں پر تو یہ اعتراض کیا گیا تھا کہ چونکہ ان کاظہور بعد کے زمانہ سے متعلق ہے اس لئے ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ سے اس کا جوڑ نہیں رہتا لیکن یہاں بھی وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ کوایک پیشگوئی قرار دیا گیا ہے جو مستقبل سے تعلق رکھتی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے معنوں میں فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ والی آیت کا تعلق بھی مستقبل بعید سے بتایا جاتا ہے لیکن اس جگہ صرف وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَکو ضمنی جملہ اور پیشگوئی بتایا گیا ہے۔فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ کوحال ہی سے متعلق بتایا گیا ہے پس ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ کا تعلق فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُسے قائم ہے اور کوئی اختلاف معنوں میں پیدا نہیں ہوتا۔پھر فرماتا ہے۔فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا یعنی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے قتل کا ارادہ کرنے پر یا ایک مسلمان کو اس غرض کے پورا کرنے کے لئے قتل کر دینے پر ہم نے کہا۔اِضْرِبُوْهُ قاتل کو مارو بِبَعْضِهَا اس کے بعض کے سبب سے۔اس جملہ کے بعض حصّے تشریح طلب ہیں۔فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ میں ضرب کے معنے تلوار سے مارنے کے اوّل ضَرَبَکے عام معنے پیٹنے کے ہوتے ہیں لیکن اس جگہ پر مَیں نے قتل کے معنے لئے ہیں چنانچہ لغت میں لکھا ہے ضَرَبَہٗ بِیَدِہٖ وَ بِالْعَصَا وَ نَحْوَھَا: اَصَا بَہٗ وَ صَدَ مَہٗ بِھَا یعنی اپنے ہاتھ سے یا سونٹے سے یا ایسی ہی کسی اور چیز سے اُسے چھوا یا زور سے ٹکرایا یعنی مارا۔لیکن جس طرح ضَرَبَہٗ بِیَدِہٖ یا ضَرَبَہٗ بِالْعَصَا کہنے سے مارا کے معنے نکلتے ہیں اسی طرح لغت میں لکھا ہے کہ جب ضَرَبَہٗ بِالسَّیْفِکے الفاظ استعمال ہوں تو اس کے معنے ہوتے ہیں اَوْقَعَ بِہٖ (اقرب) تلوار سے اس پر حملہ کیا۔پس گو عام استعمال کے مطابق ضَرَبَ کے معنے مارنے کے ہی ہوتے ہیں لیکن جیسا کہ مَیں نے لغت سے اوپر بتایا ہے جب ضَرَبَ بِالسَّیْفِ مراد ہو تو اس کے معنے قاتلانہ حملہ یا قتل کرنے کے ہوتے ہیں۔چونکہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے کعب بن اشرف کے مارنے پر جو اِس فتنہ کا بانی مبانی تھا ایک صحابی کو مقرر کیا تھا اور یہ ضروری نہیں ہوتا کہ جو شخص مارنے کے لئے جائے وہ قتل پر قابوبھی پا لے۔وہ زیادہ سے زیادہ کوشش کر سکتا ہے اس لئے موقع کی مناسبت سے اِضْرِبُوْہٗ کے الفاظ استعمال کئے ( جن کا متعلق بالسیف محذوف ہے) اور مراد یہ ہے کہ اس پر تلوار سے حملہ کرو۔قتل کا حکم درحقیقت ایسے شخص کو ہی دیا جا سکتا ہے جو قتل پر قادر ہو جیسے حکومت کے کسی نمائندہ کو حکومت کے کسی فرد کے قتل کرنے کا حکم دیا جائے مگر کعب بن اشرف اسلامی نظامِ حکومت کے اس طرح تابع نہیں تھا پس اس وجہ سے