تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 202

اس شرارت کا بانی مبانی کعب بن اشرف ہے پس اُس کی سزا کے لئے وہ سامان پیدا کر دے گا۔اِذْقَتَلْتُمْ نَفْسًامیں قتل کے معنے ارادۂ قتل اور نَفْسًا سے مراد آنحضرت صلعم کی ذات بابرکات یہاں قَتَلْتُمْ نَفْسًا کے الفاظ ہیں جس کے معنے ہیں ’’ تم نے ایک جان کو قتل کیا‘‘ لیکن مَیں نے جو واقعات بتائے ہیں ان سے یہ نکلتا ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔اس اختلاف کا حل یہ ہے کہ قتل کا لفظ قتل کی کوشش یا ارادہ کے معنوں میں بھی استعمال ہو سکتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ایک اور مقام پر آتا ہے۔وَ قَالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ اِيْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ۔(المؤمن :۲۹) یعنی آل فرعون میں سے ایک ایسا شخص جوموسیٰ پر ایمان لایا تھا۔لیکن اپنا ایمان چھپا کر رکھتا تھا اس نے فرعون اور اس کے ساتھیوں سے کہا۔کیا تم ایک ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ اﷲ میرا ربّ ہے حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے بڑے بڑے نشان لایا ہے۔ظاہر ہے کہ یہاں ارادۂ قتل کے معنوں میں قتل کا لفظ استعمال ہوا ہے پس آیت زیر تفسیر میں بھی قَتَلْتُمْ نَفْسًا سے مراد یہ معنی کرنے جائز ہیں کہ تم نے ایک عظیم الشّان انسان کے قتل کا ارادہ کیا اور ایسا پختہ ارادہ کیا اور عملی طور پر اس کے لئے ایسے سامان پیدا کرنے شروع کر دیئے کہ یُوں کہنا چاہیے گویا تم نے اپنی طرف سے اُسے قتل کر ہی دیا۔مگر اس کے علاوہ ایک مسلمان کی جان بھی ان یہودیوں نے لی تھی گو وہ مسلمان ایک معمولی حیثیت کا آدمی تھا مگر چونکہ اس ساری شرارت کی غرض اصل میں یہ تھی کہ کسی طرح رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو قتل کرنے کا موقع نکالا جائے اس لئے اس کا قتل بھی محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کا قتل کہلائے گا۔پس قَتَلْتُمْ نَفْسًا سےاس شخص کا قتل بھی مراد لیا جا سکتا ہے جسے بنو قینقاع نے قتل کیا اور اس کی عظمت اس بناء پر سمجھی جائے گی کہ اس کا قتل در حقیقت رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی نیابت میں تھا۔یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہودی لوگ تو تھوڑے تھے۔ان کے دلوں میں اتنا جوش کہاں پیدا ہو سکتا تھا کیونکہ گو یہودی تعداد میں تھوڑے تھے لیکن انہیں مدینہ کے لوگوں کی امداد کا عمومًا اور منافقین کا خصوصًا بھروسہ تھا کیونکہ وہ ان کے سالہا سال سے حلیف چلے آ رہے تھے۔پھر مکّہ کے لوگ بھی ان کو اُکسارہے تھے۔علاوہ ازیں وہ اپنے آپ کو زیادہ تعلیم یافتہ اور زیادہ منظّم سمجھتے تھے۔چنانچہ تاریخ میں لکھا ہے کہ جنگ بدر کے بعد بنو قینقاع نے مجلسوں میں یہ کہنا شروع کر دیا کہ’’ یَا مُحَمَّدُ اِنَّکَ تَرٰی أَنَّـا قَوْمُکَ لَا یَغُرَّنَّکَ اَنَّکَ لَقِیْتَ قَوْمًا لَا عِلْمَ لَھُمْ بِالْحَرْبِ فَاَصَبْتَ مِنْھُمْ فُرْصَۃً، اِنَّا وَ اللہِ لَئِنْ حَارَبْنَاکَ لَتَعْلَمَنَّ اَنَّا نَحْنُ النَّاسُ۔‘‘ اے محمد تم شاید چند قریش کو قتل