تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 198
بعض اشکال ہیں مثلاً یہ کہ اِس کے بعد کی آیت کو ثُمَّ کے لفظ سے شروع کیا گیا ہے اور ثُمَّ کے عام معنے یہ ہوتے ہیں کہ پہلے واقعہ کے بعد یہ دوسرا واقعہ ہوا۔اگر وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ اور اس کے بعد کی آیت کے معنے یہ کئے جائیں کہ مسیح ؑ موعود کے زمانہ میں اﷲ تعالیٰ اس راز کو ظاہر کر دے گا تو ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ والی آیت جو اس کے آگے ہے اس کے معنے یہ کرنے پڑیں گے کہ واقعۂ قتل کے بعد نہیں بلکہ اس اظہار کے بعد جو آخری زمانہ میں ہونے والا ہے یہودیوں کے دل سخت ہو گئے حالانکہ یہ درست نہیں۔یہود کے دل جہاں تک مسیح علیہ السلام پر ظلم کرنے کا تعلق ہے حضرت مسیحؑ کو صلیب پر لٹکاتے ہوئے ہی سخت ہو گئے تھے۔اِذْقَتَلْتُمْ نَفْسًا۔۔۔۔الخ کے مرجح معنے اب مَیں ان معنوں کی طرف آتا ہوں جنہیں مَیں ترجیح دیتا ہوں لیکن ان معنوں کے سمجھنے سے پہلے یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ گزشتہ مفسّرین کو غلطی اس وجہ سے لگی ہے کہ انہوں نے اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا والے واقعہ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کا واقعہ سمجھ لیا حالانکہ یہ واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کا نہیں وَ مَا كَادُوْا يَفْعَلُوْنَ تک وہ واقعات ختم ہو گئے ہیں جن میں بنی اسرائیل کی وہ نافرمانیاں اور ناشکریاں بیان کی گئی ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ان سے ہوئیں اور وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا کی آیت سے میرے نزدیک اُن کی اُن نافرمانیوں اور ناشکریوںکا ذکر کیا گیا ہے جو رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے زمانہ میں اُن سے صادر ہوئیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ قتل والے واقعہ کے بعد فرماتا ہےثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ پھر اس واقعہ کے بعد بھی تمہارے دل سخت ہو گئے یعنی تم نے اس سے عبرت حاصل نہ کی۔اور اس آیت کے آخر میں فرماتا ہے وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ اور اﷲ تعالیٰ اس سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو جس سے معلوم ہوا کہ ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ والے گروہ ہی نے ایک جان کو مارا یا مارنے کی کوشش کی تھی اور وہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے زمانہ کا تھا۔تبھی تو فرمایا کہ جو کچھ تم کرتے ہو اﷲ اس سے غافل نہیں۔اسی طرح اِس آیت کے بعد بھی اَفَتَطْمَعُوْنَ۠ اَنْ يُّؤْمِنُوْا لَكُمْ والی آیت میں اُن لوگوں کا ذکر ہے جو رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے زمانہ کے لوگ تھے۔پس حقیقت یہ ہے کہ آٹھویں رکوع تک تو یہودیوں کی ان ناشکریوں کا ذکر ہے جوحضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں اُن سے صادر ہوئیں اور نویں رکوع سے ان کی اُن ناشکریوں کا ذکر شروع ہوتاہے جو رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے زمانہ میں اُن سے سرزد ہوئیں۔اِذْقَتَلْتُمْ نَفْسًا میں مخالفین اسلام کے کعب بن اشرف کے قتل کے متعلق اعتراض کا جواب رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے زمانہ کا ایک واقعہ ہمیشہ مخالفینِ اسلام کے لئے اعتراض کا موجب بنتا چلا آیا