تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 197

اس لعنت سے نجات پا لی جو بنی نوع انسان کو گناہ کی سزا سے بچانے کے لئے انہوں نے اپنے آپ پر خوشی سے وارد کی تھی۔آج کل کے مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح ؑ صلیب پر نہیں لٹکائے گئے بلکہ ان کی جگہ کسی اور شخص کو صلیب پر لٹکا دیا گیا اور اُن کو خدا تعالیٰ آسمان پر زندہ اُٹھا کر لے گیا۔اس عقیدہ کا ثبوت کسی حدیث سے نہیں ملتا جو تفصیلات اس واقعہ کی بیان کی جاتی ہیں وہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی طرف منسوب نہیں کی جاتیں۔گذشتہ زمانہ کی تفصیلات یا تو نبی کو الہام سے معلوم ہو سکتی ہیں یا صحیح تاریخ سے معلوم ہو سکتی ہیں چونکہ وہ تفصیلات رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے بیان نہیں فرمائیں لازماً اُن کا ثبوت تاریخ سے دینا پڑے گا لیکن جیسا کہ میں بتا چکا ہوں نہ یہودی تاریخ میں اور نہ ہی عیسائی تاریخ میں اِن باتوں کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔پس سوائے اس کے کوئی نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ بعض شریر یہودیوں یا عیسائیوں نے اپنی تاریخوں کے خلاف روائتیں وضع کر کے مسلمانوں کے ساتھ تمسخر کیا۔بانی ٔ سلسِلہ احمدیہ نے ان تینوں اقوال سے اختلاف کیا ہے اور قرآن کریم، اناجیل اور تاریخ سے اس امر کو ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح صلیب پر تو لٹکائے گئے تھے مگر خود حضرت مسیح علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے مطابق جو انجیل میں بیان ہیں اور آج تک محفوظ ہیں صلیب پر سے زندہ اُتار لئے گئے اور زخموں کی شدّت سے دو تین دن بیہوشی اور ضعف کی حالت میں ایک کمرہ میں پڑے رہے۔تیسرے دن طاقت آنے پر وہاں سے نکلے اور حواریوں کی مدد سے اور انجیل کی اس پیشگوئی کے مطابق کہ مسیحؑ بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کو جمع کرنے کے لئے آیا ہے ( لکھا ہے کہ ’’ میری اور بھی بھیڑیں ہیں جو اس بھیڑ خانہ کی نہیں۔مجھے ان کو بھی لانا ضرور ہے ‘‘ یوحنا باب ۱۰ آیت ۱۶) ان دس قبائل میں تبلیغ کرنے کے لئے روانہ ہو گئے جن کی نسبت بائبل اور تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ بخت نصر اُنہیں قید کر کے عراقِ فارس کی طرف لے گیا اور وہاں سے اُس نے اُنہیں سلطنت کے مشرقی ممالک یعنی افغانستان اور کشمیر کی طرف پھیلا دیا تھا۔ان علماء کا خیال ہے کہ اس آیت میں اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بنی اسرائیل کو بتایا گیا ہے کہ تمہاری شرارتیں صرف موسیٰ ؑ کے زمانہ پر ختم نہیں ہو گئیں بلکہ ان کا سلسلہ ممتد ہوتا گیا یہاں تک کہ تم نے مسیح ناصریؑ کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی اور اسے لعنتی قرار دیا لیکن اﷲ تعالیٰ ایک دن تمہارے اس راز کو کھول کر رکھ دے گا۔جہاں تک معانی کا سوال ہے یہ تفسیر بہت حد تک اس آیت پر چسپاں ہوتی ہے مگر میرے نزدیک اس میں