تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 16
واویلا کر کے کہا’’ ہم پر افسوس اب ہمارے گناہوں کا کفاّرہ کس طرح ہو گا۔‘‘ ( جوئش انسا ئیکلوپیڈیا زیر لفظ Atonement بحوالہ۱۴ سدر۱ باب ۹ آیت ۳۶) مختلف انبیاء کی طرف سے یہودیوں کے خیالی کفارہ کے باطل ہونے کا اعلان مَیں بتا چکا ہوں کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کا ہرگز یہ منشاء نہ تھا کہ بکرے کی قربانی گناہوں کا کفّارہ ہو جائے گی بلکہ ان کا منشاء صرف یہ تھا کہ بکرے کی قربانی سے نفس کی قربانی کی طرف توجہ دلائی جائے چونکہ ان کے زمانہ میں لوگ رسوم اور تصویری زبان کے شیدا تھے اﷲ تعالیٰ نے نفس کی قربانی کا مضمون ان کے سامنے رکھنے کے لئے بکرے کی قربانی کی ایک رسم ان میں رکھ دی تاکہ سب قوم کی ایک مقررہ دن گناہوں کے ازالہ کی طرف توجہ ہو جائے مگر انہوں نے تصویری زبان کو تو بھُلا دیا مگر تصویر کو قائم رکھا۔بیت المقدس کے گرائے جانے پر جو صدمہ یہود کو ہوا۔اس کی وجہ سے انبیائے وقت نے ان کے اس غلط خیال کی تردید شروع کر دی کہ انسان کے گناہ کوئی بیل یا بکرا اٹھا سکتا ہے۔چنانچہ ہوسیع نبی فرماتے ہیں’’تم کلمہ ساتھ لے کے خدا وندکی طرف پھرو۔اور اُسے کہو کہ ساری بدکاری کو دُور کر اور ہمیں عنایت سے قبول کر۔تب ہم اپنے ہونٹوں کے بچھڑے نذر گزرانیں گے۔‘‘(ہوسیع باب۱۴ آیت۲) اس آیت میں ہوسیع نبی یہود کو بتاتے ہیں کہ عام بچھڑا یا بکرا کفّارہ نہیں بنتا بلکہ تو بہ اور تسبیح اور تحمید سے انسان گناہ کے اثر سے نجات پاتا ہے۔گائے کے پیٹ سے نکلا ہوا بچھڑا نہیں بلکہ تائب کی زبان سے نکلا ہوا بچھڑا حقیقی کفّارہ ہوتا ہے۔اس سے چند سال پہلے عاموس نبی نے یہود کو ان قربانیوں پر بھروسہ کرنے سے اس طرح ہوشیار کیا۔’’ اور تم ہر چند سو ختنی قربانیوں اور ہدیوں کو میرے آگے گزرانو گے۔تو بھی میں انہیں قبول نہ کروںگا اور تمہارے موٹے بیلوں کے شکرانے کے ہدیوں کی طرف متوجہ نہ ہوں گا۔‘‘ (عموس باب۵ آیت ۲۲) پھر لکھا ہے کہ اصل علاج توبہ کا یہ ہے کہ ’’ تو ایسا کر کہ عدالت پانی کی طرح بہتی رہے اور راستی بڑی نہر کی مانند۔‘‘ (عموس باب ۵ آیت ۲۴) یہودیوں کی کفّارہ کے متعلق ایک اور ایجاد یسعیاہ نبی خدا تعالیٰ کی طرف سے فرماتے ہیں’’ اب آگے کو جھوٹے ہدیے مت لاؤ۔لبان سے مجھے نفرت ہے۔نئے چاند اور سبت اور عیدی جماعت سے بھی کہ مَیں عید اور بیدینی دونوں کی برداشت نہیں کر سکتا ہوں۔میرا جی تمہارے نئے چاندوں اور تمہاری عیدوں سے بیزار ہے وہ مجھ پر ایک بوجھ ہیں۔مَیں ان کے اُٹھانے سے تھک گیا۔‘‘ (یسعیاہ باب۱ آیت ۱۳،۱۴) پھر لکھا ہے’’ اپنے تئیں دھوؤ۔آپ کو پاک کرو اور اپنے بُرے کاموں کو میری آنکھوں کے سامنے سے دُور کرو۔بد فعلی سے باز آئو۔نیکوکاری سیکھو۔انصاف کے پَیرو ہو۔مظلوموں کی مدد کرو۔یتیموں کی فریادرسی کرو۔عورتوں