تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 192
پیدا ہوا ہے چنانچہ امام رازی نے اپنی تفسیر مفاتیح الغیب میں اس سوال کو اُٹھایا لیکن اس کا نہایت بودا جواب دیا ہے اور لکھا ہے کہ واقعہ کے تقدّم اور تأخرّ کو اسی ترتیب سے بیان کرنا ضروری نہیں ہوتا کیونکہ کبھی سبب کو حکم سے پہلے بیان کر دیتے ہیں اور کبھی حکم کو سبب سے پہلے بیان کر دیتے ہیں اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ کبھی کبھی ترتیب میں فرق ہو جاتا ہے اور بیان کی ترتیب واقعہ کی ترتیب سے مختلف ہو جاتی ہے مگر ایسا اسی صورت میں ہوتا ہے جبکہ بعد میں ہونے والا واقعہ زیادہ اہم ہو۔پس توجہ پھرانے کے لئے اسے پہلے بیان کر دیا جاتا ہے مثلاً کوئی شخص کسی مقتول کی لاش پر پہنچتا ہے تو جب وہ اپنے دوستوں کو یہ واقعہ سناتا ہے تو پہلے یکدم سنا دیتا ہے کہ فلاں شخص مر گیا اور پھر تفصیل بتاتا ہے کہ مَیں اس اس طرح جا رہا تھا کہ فلاں شخص کی لاش نظر آ گئی لیکن اس جگہ پر تو نہ صرف یہ کہ پہلی بات کو پیچھے بیان کیا گیا ہے اور پچھلی بات کو پہلے بیان کیا گیا ہے بلکہ اہمیت کے لحاظ سے جو بات ادنیٰ تھی اسے پہلے بیان کیا گیا ہے اور اہمیت کے لحاظ سے جو بات زیادہ تھی اسے بعد میں بیان کیا گیا ہے۔اَور پچھلی بات کو پہلے بیان کرنے کی جو حکمت ہوا کرتی ہے وہ یہاں مفقود ہے۔پس خالی یہ کہہ دینا کہ کبھی بعد کی بات کو پہلے بیان کر دیا کرتے ہیں کافی نہیں ہے۔بلکہ یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ جن وجوہ کے پائے جانے پر بعد کی بات کو پہلے بیان کیا کرتے ہیں وہ اس جگہ پر پائی جاتی ہیں ورنہ قرآن کریم کا یہ حصہ حکمت سے خالی سمجھا جائے گا مگر میں بتا چکا ہوں کہ وہ وجوہ جو کسی بعد کی بات کو پہلے بیان کرنے کا سبب ہوا کرتی ہیں وہ یہاں نہیں پائی جاتیں بلکہ اسکے برخلاف یہ وجہ موجود ہے کہ جو پہلے کا واقعہ ہے اسے پہلے بیان کیا جاتا اور جو بعدکا واقعہ ہے اسے بعد میں بیان کیا جاتا کیونکہ پہلے کا واقعہ یعنی قتل بعد کے واقعہ یعنی گائے کے ذبح کرنے کے حکم سے زیادہ اہم ہے پس اصل ترتیب کو قائم رکھنے کی اشد ضرورت تھی۔دوسرے یہ بات بھی یاد رکھنے والی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے گائے کے واقعہ کو بھی اِذْ کے لفظ سے شروع کیا ہے اور قتل کے واقعہ کو بھی اِذ کے لفظ سے شروع کیا ہے اور ان آیات سے پہلے جتنی آیات گزری ہیں ان میں جہاں جہاں اِذْ کا لفظ آیا ہے وہ الگ واقعات کے متعلق آیا ہے پس اس جگہ بھی جبکہ دونوں آیتوں سے پہلے اِذْ کا لفظ آیا ہے ہمیں ماننا پڑے گاکہ یہ واقعات اپنی ذات میں الگ الگ ہیں۔تیسری دلیل میرے خیال کی تائید میں یہ ہے کہ گائے کے ٹکڑے کو قاتل پر مار کر اُسے زندہ کرنے کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں اگر معجزانہ طور پر مُردے کو زندہ کرنا تھا تو اُس کے لئے گائے کے ذبح کرنے اور اُس کا ٹکڑا اس پر مارنے کی ضرورت کیا تھی۔وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے زندہ کیا جاسکتا تھا جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے عام مسلمانوں کے نزدیک مُردے زندہ ہوتے رہے ہیں۔لیکن اگر یہ کہا جائے کہ گائے کے گوشت میں کوئی طبّی