تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 191
تعلیم کے مطابق ہوں جو قرآن یا حدیث سے ثابت ہے۔تفسیر فتح البیان میں بھی گائے کے ٹکڑوں کا ذکر کرتے ہوئے باوجود اِس کے کہ اُن میں سے ایک روایت حضرت ابن عباسؓ کی طرف منسوب کی گئی ہے لکھا ہے وَ لَا حَاجَۃَ اِلٰی ذٰلِکَ مَعَ مَا فِیْہِ مِنَ الْقَوْلِ بِغَیْرِعِلْمٍ وَ یَکْفِیْنَا اَنْ نَّقُوْلَ اَمَرَھُمُ اللہُ تَعَالٰی اَنْ یَّضْرِبُوْہُ بِبَعْضِھَا یعنی ہمیں اس قسم کی روایتوں کی طرف توجہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں خصوصًا جبکہ اُن میں ایسی باتیں بیان کی گئی ہیں جن کی تصدیق علم سے نہیں ہو سکتی۔ہمارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اُن کو اُس کے بعض سے مارنے کا حکم دیا تھا۔صاحبِ فتح البیان کا یہ بیان بھی اس امر پر شاہد ہے کہ اس بارہ میں جو روایتیں بیان کی جاتی ہیں باوجود اس کے کہ ان کو صحابہؓ تک پہنچایا گیا ہے وہ اسلامی روایات کہلانے کی مستحق نہیں بلکہ صرف یہودی کتابوں کی نقل ہیں پس ان پر اعتماد کرنا اسلام کی طرف ایسی باتوں کو منسوب کرنا ہے جو بالکل ممکن ہے کہ اسلام کی تعلیم کے صریح مخالف ہوں اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے والی ہوں۔قرآن مجید کی آیات کی ترتیب سابق مفسرّین کے خیالات کی تردید میں حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ اور اُس کی ترتیب ان روایات کی برداشت ہی نہیں کر سکتے۔اوّل تو جو واقعہ تفسیروں میں بیان کیا گیا ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک قتل کے واقعہ پر قاتل کو دریافت کرنے کے لئے ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا۔لیکن قرآن کریم میں گائے کے ذبح کرنے کا حکم پہلے آتا ہے اور قتل کا واقعہ بعد میں آتا ہے۔قرآن کریم تو اﷲ تعالیٰ کی کتاب ہے۔اور فصاحت و بلاغت کے تمام انسانی معیاروں سے بالا ہے۔ایک ادنیٰ عقل کا انسان بھی اس واقعہ کو اس ترتیب سے بیان نہیں کر سکتا۔ہم میں سے ہر شخص اپنی عقل سے کام لیتے ہوئے اگر اس واقعہ کو بیان کرے تو وہ اِس طرح بیان کرے گا کہ یاد کرو جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا اور اس کے قتل کے بارہ میں اختلاف کیا تب ہم نے حکم دیا کہ تم ایک گائے کو ذبح کرو اور اس کے کچھ حصّے کو مقتول کے کچھ حصّے پر مارو۔جب تم نے ایسا کیا تو مردہ زندہ ہو گیا۔لیکن قرآن کریم یوں بیان نہیں کرتا۔قرآن کریم گائے کے واقعہ کو الگ بیان کرتا ہے اور قتل کے واقعہ کو الگ بیان کرتا ہے اور گائے کے واقعہ کو قتل کے واقعہ سے پہلے بیان کرتا ہے۔پھر یہ کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ یہ گائے قاتل کو دریافت کرنے کے لئے ذبح کی گئی تھی۔قرآن کریم کی اس فصاحت و بلاغت کا خیال نہ بھی رکھا جائے جو اس کے اندر پائی جاتی ہے بلکہ ایک معمولی لیکن معقول کتاب اُسے قرار دیا جائے تب بھی یہ ترتیبِ بیان اس کی طرف منسوب کرنی جائز نہیں ہو سکتی۔یہ اعتراض مَیں ہی نہیں کر رہا پہلے لوگوں کے ذہن میں بھی یہ اعتراض