تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 180
ہوں گے۔اس کا رنگ ایک جیسا ہے اور کوئی غیر رنگ اس میں نہیں پایا جاتا۔تفسیر۔آخر اﷲ تعالیٰ نے وہ ساری علامتیں بیان کر دیں جس سے اس مخصوص بَیل کی تعیین ہو گئی۔فرمایا نہ تو وہ زمین میں جوتا ہوا ہو، نہ اس سے پانی لیا جاتا ہو مطلب یہ کہ سانڈ کے طور پر چھوڑا ہوا ہے تم اُس کے اعزاز کی وجہ سے اُس سے کِسی قسم کا کام نہیں لیتے اور وہ ایک بے عیب بَیل ہے کہ نہ کوئی اس کو مارتا ہے نہ پیٹتا ہے اور اس وجہ سے کہ اس کے جسم پر کوئی داغ نہیں پڑتے۔گویا جو اُن بیلوں کا حال ہوتا ہے جن کا لوگ مذہبی طور پر اعزاز کرتے ہیں وہی اس کا حال ہے۔اس طرح تمام علامتیں خدا تعالیٰ نے بتا دیں اور یہود نے بھی آخر کہہ دیا کہ آپ نے ہمیں سچ سچ بات آخر بتا ہی دی یعنی ہم پہلے سے سمجھتے تھے کہ فلاں بَیل کی قربانی کا ہمیں حکم دیا جاتا ہے حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی بات تو پہلے بھی سچی ہی تھی۔اﷲ تعالیٰ کا منشا یہ تھا کہ وہ شرمندہ نہ ہوں اور گائے کی قربانی اُن میں شروع ہو جائے۔آہستہ آہستہ اِس قسم کا شرک بھی دل سے نکل جائے گا۔انہوں نے خود اصرار کر کے اس بَیل کی تعیین کرائی اور پھر یہ لاف زنی کرنے لگ گئے کہ اب آپ نے سچ بات بیان کی ہے پھر آگے فرمایا آخر انہوں نے اُس گائے یا بیل کو ذبح کر ہی دیا مگر کچھ خوش دلی سے نہ کیا۔یہود کا یہ فقرہ کہ اب آپ نے اصلی بات بتائی ہے کتنا واضح ثبوت اس امر کا ہے کہ ان کے اندر کسی خاص بیل کی نسبت مشرکانہ خیال پیدا ہو چکے تھے ورنہ اُن کا گائے کی قربانی کا حکم ملنے پر سوال پر سوال کرنا اور آخر بعض تفصیلی علامات کے بتائے جانے پرکہنا کہ اب آپ نے اصلی بات بتا دی ہے کس طرح ممکن تھا۔عیدالاضحیہ پر قربانی کے لئے بَیل لانے کے لئے ہمیشہ امراء اپنے ملازموں کو حکم دیتے ہیں یہ کبھی نہیں ہوتا کہ وہ کہیں کہ ہم سمجھے نہیں کیسی گائے اور نہ سوال پر سوال کر کے خاص قسم کی گائے کو مخصوص کراتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ گائے سے مراد گائے سمجھتے ہیں نہ خاص قسم کی گائے۔لیکن یہودیوں کے دل میں چونکہ ایک خاص بیل کی نسبت مشرکانہ عقیدہ گھر کر چکا تھا انہوں نے شروع سے یہ سمجھ لیا تھا کہ ہو نہ ہو اس عام حکم کے نیچے اس خاص بَیل کی قربانی کا حکم مخفی ہے پس وہ جرح کرتے گئے کرتے گئے یہاں تک کہ خاص اسی بَیل کا حُلیہ اُنہیں بتا دیا گیا جسے وہ خدا تعالیٰ کا مظہر سمجھ رہے تھے۔موسیٰ علیہ السلام کی غَیبت میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کی پوجا کرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ یہود کا عقیدہ گائے کے متعلق مشرکانہ تھا موسیٰ ؑ کی غَیبت میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کی پوجا کرنا اس امر کا مزید ثبوت ہے کہ یہود کا عقیدہ گائے کی نسبت مشرکانہ تھا۔تاریخ سے ثابت ہے کہ مصریوں میں زندہ بیل کی بھی اور اُس کے بُت کی بھی پوجا کی جاتی تھی۔پس ایک دفعہ انہوں نے بُت کی اور دوسری دفعہ زندہ بَیل کی پوجا کی کوشش کی۔بیل