تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 175

دیودار کی لکڑی اور زوفا اور قرمزلے کے اس جلتی ہوئی گائے پر ڈال دے۔تب کاہن اپنے کپڑے دھووے اور اپنا بدن پانی سے دھووے بعد اس کے خیمہ گاہ میں داخل ہو اور کاہن شام تک ناپاک رہے گا اور وہ جو اُسے جلاتا ہے اپنے کپڑے پانی سے دھووے اور اپنا بدن پانی سے دھووے اور شام تک ناپاک رہے گا اور کوئی پاک شخص اس گائے کی راکھ کو جمع کرے اور خیمہ گاہ کے باہر صاف جگہ دھردے۔یہ بنی اسرائیل کی جماعت کے لئے محفوظ رہے گی تاکہ جدائی کے پانی میں ملائی جاوے۔یہ گناہ سے پاک کرنے کے لئے ہے۔‘‘ (گنتی باب ۱۹آیت ۲ تا ۹) گو اس حوالہ میں ان سوالات و جوابات کا ذکر نہیں جو قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں پھر بھی ایک ادنیٰ نظر سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ گو بائبل نے اسے ایک عام واقعہ کے طور پر بیان کیا ہے لیکن اصل حکمت اس قسم کی گائے کے ذبح کرنے میں یہی تھی کہ بنی اسرائیل کے دل سے شرک کو مٹایا جائے اور اُن کو غیر قوموں کے اثر سے محفوظ کیا جائے اور شائد اسی حکمت کی وجہ سے اُس پانی کا نام جس میں گائے کی راکھ کو ملانے کا حکم تھا جدائی کا پانی رکھا گیا۔یہ جو بائبل میں آتا ہے کہ ’’ یہ گناہ سے پاک کرنے کے لئے ہے۔‘‘ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اگر تم اس قسم کے بَیل یا گائے جن کی مصر میں پوجاکی جاتی تھی بار بار قربان کرو گے تو تبھی تمہارے دل شرک سے پاک ہوں گے۔بائبل کا جو حوالہ نقل کیا گیا ہے یہودی احادیث کی کتابوں میں اس سے بڑھ کر اس گائے کی تفاصیل دی گئی ہیں چنانچہ مِثنا ( یہودی حدیثوں کی کتاب) میں اس گائے کے متعلق نہایت تفصیلی بحثیں کی گئی ہیں اور ایک باب کا باب اس کے لئے وقف کر دیا گیا ہے۔رِبّینسیس کی روایت اس کے متعلق یہ بیان کی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کے بعد پھر ان شرطوں والی گائے کوئی نہیں ملی ( انسائیکلو پیڈیا ببلیکا زیر لفظ Clean and Unclean Holy and Profane)یہودی کتبِ احادیث کا یہ بیان قرآن کریم کی اِس بارہ میں کامل تصدیق کر دیتا ہے کہ درحقیقت ایک خاص گائے کو اُس وقت ذبح کرانا مقصود تھا جس میں بعض غیر معمولی قسم کی خوبصورتی کے نشانات پائے جاتے تھے اور اس قسم کی گائے عام طور پر ہر زمانہ میں نہیں ملتی۔قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ۔۔۔۔الخ میں اس طرف اشارہ کہ دینی امور میں تمسخر نہیں کرنا چاہیے قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ دینی امور میں ہنسی اور تمسخر کرنا جاہلوں کا کام ہوتا ہے۔افسوس بہت سے لوگ اس امرکی حقیقت کو نہیں سمجھتے اور دینی امور میں ہنسی اور مذاق کر کے یا عدم سنجیدگی کا اظہار کر کے دلوں کو سخت کر لیتے ہیں۔