تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 176

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَّنَا مَا هِيَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ يَقُوْلُ انہوں نے کہا ہماری خاطر اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں کھول کر بتائے کہ وہ (گائے) کیسی ہے۔اس نے( یعنی اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَيْنَ ذٰلِكَ١ؕ موسیٰ ؑنے )کہا کہ وہ فرماتا ہے وہ ایسی گائے ہے کہ نہ تو وہ بڑھیا ہے اور نہ بچھیا (بلکہ )پوری جوان ہے۔اس( بیان فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ۰۰۶۹ کردہ حد بندی )کے درمیان کی ہے اس لئے جو حکم تمہیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاؤ۔حَلّ لُغَات۔فَارِضٌ۔فَرُضَ سے ہے اور فَرُضَتِ الْبَقَرَۃُ کے معنے ہیں کَبُرَتْ وَ طَعَنَتْ فِی السِّنِ کہ گائے بوڑھی ہو گئی اور لَافَارِضٌ وَّ لَابِکْرٌ کے معنے ہیں لَا مُسِنَّۃٌ وَلَا فَتِیَّۃٌ نہ بُڑھیا اور عمر رسیدہ ہے اور نہ بچھیا۔(اقرب) بِکْرٌ۔اَلْبَقَرَۃُ الْفَتِیَّۃُ۔نو عمر گائے ( اقرب) بِکْرٌ فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی لَافَارِضٌ وَّ لَابِکْرٌ ھِیَ الَّتِیْ لَمْ تَلِدْ یعنی لفظ بِکْرٌ جو آیت لَافَارِضٌ وَّلَابِکْرٌ میں گائے کی صفت میں استعمال ہوا ہے اس کے معنے ہیں ایسی گائے جس نے ابھی کوئی بچہ نہ دیا ہو۔(مفردات) عَوَانٌ۔اَلنَّصَفُ درمیانی عمر کی۔پوری جوان۔(اقرب) تفسیر۔تفصیل کے لئے دیکھو اوپر کی آیت کا نوٹ۔عَوَانٌۢ بَيْنَ ذٰلِكَکی تشریح پہلی آیت میں صرف ایک بیل یا گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا مگر چونکہ یہودیوں کے دل میں چور تھا انہوں نے علامتیں پوچھنی شروع کر دیں۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ نہ تو وہ گائے یا بیل فَارِضٌ یعنی بوڑھا ہو اور نہ بِکْـرٌ یعنی بچہ ہو بلکہ عَوَانٌ یعنی جوان ہو۔بَیْنَ ذٰلِکَ کے لفظی معنے تو یہ ہیں کہ اس کے درمیان اور درمیان کا لفظ ایک چیز پر نہیں بولا جاتا بلکہ دو۲ یا دو۲ سے زیادہ چیزوں پر بولا جاتا ہے۔پس یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’’ اس کے درمیان‘‘ سے کیا مراد ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ درحقیقت یہاں ذٰلِکَ سے مراد فَارِضٌ اور بِکْرٌ کا مجموعہ ہے یعنی مراد یہ ہے کہ اس تفصیل کے درمیان درمیان۔یا یہ کہ ایک ذٰلِکَ محذوف ہے اور مراد یہ ہے کہ بَیْنَ ذٰلِکَ وَذٰلِکَ۔