تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 174
ہم قسم جانور کو مار دیتا تھا تو جان بوجھ کر مارنے کی صورت میں اُس کو قتل کی سزا ملتی تھی اور نادانستہ مارنے کی صورت میں جرمانہ ہوتا تھا۔میمفِس کے دیوتا بیلوں کا سِلسِلہ مصریوں کے آخری بادشاہوں تک چلنا ثابت ہے چنانچہ رعمسیس ثانی کے زمانہ سے لے کر جس کے زمانہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے اُس کے ٹولو مک زمانہ PTOLEMAIC PERIODتک کم سے کم چوبیس بَیل یکے بعد دیگرے میمفِس کے مقام پر فتاح کے مندر میں پوجا کے لئے رکھے گئے تھے۔(دی نائل اینڈ ایجپشن سیویلائزیشن THE NILE AND EXYPTIAN CIVILIZATION BY MORET edition 1927 page 264۔265 مصنّفہ اے مارٹ پروفیسر فرانس یونیورسٹی ( مصری لوگوں کا اپنی عبادت گاہ میں خاص قسم کے بیل کو تلاش کر کے رکھنا ان حوالجات سے ثابت ہوتا ہے کہ مصر میں بیل کی پوجا خاص طور پر کی جاتی تھی اور خاص علامتوں والے بیل اس غرض کے لئے چُنے جاتے تھے۔معلوم ہوتا ہے بنی اسرائیل نے بھی مصر میں رہنے کی وجہ سے مصریوں کے اس خیال کے اثر کو قبول کر لیا تھا۔جب اتفاقاً اُن کی قوم کے کسی گلّہ میں ایک غیر معمولی طور پر خوبصورت بَیل پیدا ہو گیا تو انہوں نے اپنے دل میں یہ خیال کر لیا کہ سورج دیوتا نے ان پر بھی نظر ڈالی ہے اور اُن کی قوم کے ایک بیل میں جنم لیا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے اُن کے اس شرک کو دُور کرنے کے لئے بیل اور گائے کی قربانی کا حکم دیا۔لفظ بَقَرَة میں بَیل اور گائے ہر دو مراد لئے جا سکتے ہیں ( قرآن کریم میں بَقَرَة کا لفظ ہے جو بیل اور گائے دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ترجمہ کرتے ہوئے عام طور پر بقرة کو مؤنث سمجھ کر گائے کا ترجمہ کر لیا جاتا ہے مگر یہ لفظ صرف مؤنث پر دلالت نہیں کرتا بلکہ خواہ نر ہو یا مادہ دونوں کو بقرة کہتے ہیں) بائبل میں اس تفصیل کے ساتھ اس واقعہ کا ذکر نہیں آتا جو قرآن کریم نے بیان کی ہے اور مَیں یہ پہلے بتا چکا ہوں کہ بائبل میں کسی تاریخی واقعہ کا ہونا یا نہ ہونا ایک محفوظ الہامی کتاب کے بیان کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا مگر پھر بھی بائبل میں ایک اسی قسم کے بیل کی قربانی کا حکم جس کی علامات قرآن کریم نے بتائی ہیں ضرور پایا جاتا ہے۔بائبل میں لکھا ہے۔’’ بنی اسرائیل کو کہہ کہ ایک لال گائے جو بے داغ اور بے عیب ہو اور جس پر کبھی جؤا نہ رکھا گیا ہو تجھ پاس لاویں تم اسے الیعزر کاہن کو دو کہ اُسے خیمہ گاہ سے باہر لے جاوے اور وہ اُس کے حضور ذبح کی جاوے اورالیعزر کاہن اپنی اُنگلی پر اُس کا لہو لیوے اور جماعت کے خیمے کے آگے کی طرف اُس کے لہو کو سات مرتبہ چھڑ کے پھر اُس کی آنکھوں کے سامنے وہ گائے جلائی جاوے۔اس کا چمڑا، اُس کا گوشت ، اس کا خون ، اس کے گوبر سمیت سب جلایا جاوے پھر کاہن وہاں