تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 173

موقع پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو گائے کی قربانی کا حکم دیا لیکن انہوں نے بہانہ بنا کر ٹالنا چاہا مگر آخر کار بادلِ نخواستہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حکم کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا پڑا۔اِس جگہ پر اﷲ تعالیٰ بنی اسرائیل کی ایک اور ناشکری کا ذکر کرتا ہے۔گوسالہء سامری کے پوجنے کے بعد اور سخت سزاؤں کے برداشت کرنے کے بعد اور بڑی توبہ اور ندامت کے اظہار کے بعد یہ اُمید نہیں کی جا سکتی تھی کہ ان کی وہی نسل پھر شرک کے قریب چلی جائے گی مگر انہوں نے اس واقعہ سے بھی عبرت حاصل نہ کی اور پھر شرک کی طرف راغب ہو گئے۔معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بدقسمتی سے کوئی ایسا بَیل اُن کے گَلّے میں پیدا ہو گیا جو نہایت خوشنما اور خوش رنگ تھا۔چونکہ فرعون کی قوم میں بَیل کی پوجا کا عام رواج تھا بلکہ سب سے بڑا مندر مصر کا وہی تھا جس میں ایک بے عیب بَیل بطور دیوتا کے رکھا جاتا تھا۔انہوں نے اُس اثر کے ماتحت جو مصر میں رہنے کی وجہ سے اُن کے عقائد پر پڑا تھا۔اُس بَیل کو خاص عزت کی نگاہوں سے دیکھنا شروع کر دیا۔اس پر اﷲتعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ ان میں گائے کی قربانی کا رواج پیدا کیا جائے تاکہ اس قسم کے خیالات کا قلع قمع ہو۔بنی اسرائیل کے دل میں چونکہ چور تھا انہوں نے فوراً شبہ کیا کہ اس خاص بَیل کے متعلق جو ہماری قوم میں چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کس طرح اُن کا پتہ لگ گیا ہے اور انہوں نے اُس بَیل کو مدّنظر رکھتے ہوئے ہمیں بَیل کی قربانی کا حکم دیا ہے۔اُس وقت یہود کی مثال بالکل ’’چور کی داڑھی میں تنکا‘‘ والی ہو گئی اور انہوں نے بجائے اس کے کہ خاموشی سے ایک بَیل ذبح کر دیتے اور اس طرح اُن کے عیب پر بھی پردہ پڑا رہتا اور منشائے الٰہی بھی پورا ہو جاتا کہ آہستہ آہستہ اُن کے دلوں سے گائے اور بَیل کی عظمت بالکل نکل جائے اُلٹا یہ کیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر سوالوں کی بھرمار شروع کر دی کہ ضرور آپ کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے کسی خاص بَیل کے ذبح کرنے کا حکم ہوا ہے اُس کی ہمیں نشانیاں بتائی جائیں۔اس جرح قدح کا نتیجہ یہ نکلا کہ آخر اﷲ تعالیٰ نے وہ تمام علامتیں جو اس مخصوص بَیل میں پائی جاتی تھیں جس کا ادب اور احترام بنی اسرائیل میں پیدا ہو رہا تھا اُنہیں بتا دیںاور وہ خاص بَیل اُنہیں ذبح کرنا پڑا اور شرمندگی الگ اُٹھانی پڑی۔مصری لوگوں میں بَیل کو پوجنے کا رواج مصری لوگوں میں بَیل کی عبادت اَور اُس کی عظمت کے متعلق تاریخ میں کثرت سے حوالے ملتے ہیں۔نیوسٹینڈ رڈ ڈکشنری میں ایپس (APIS)کے لفظ کے نیچے لکھا ہے یہ ایک مقدّس بَیل ہوتا تھا جس کی مصری لوگ قدیم زمانہ میں پوجا کرتے تھے اور اپنے بُتوں اور تصویروں میں بھی اُس کی شکلیں دکھاتے تھے۔وہ مصر کے مقدس جانوروں میں سے سب سے زیادہ اہم ہوتا تھا۔اُس کی پیدائش کے دن کو ایک عام چھٹی کے طور پر مُلک میں منایا جاتا تھا اور اُس کی موت پر تمام ملک میں ماتم کیا جاتا تھا اور یہ ماتم اُس وقت تک جاری رکھا جاتا تھا جب تک ایک نیا ایپس اُن علامتوں کے مطابق جن سے اُس کے خدا کے مظہر ہونے کا ثبوت حاصل ہو نہ مل جائے۔میمفِس (MEMPHIS)مقام پر اس کا بہت بڑا مندر تھا اور ہر ایسے بَیل کے مرنے کے بعد اس کی لاش میں مصالحے بھر دیئے جاتے تھے اور اُسے ایک چٹان سے کھو دے ہوئے مقبرہ میں دفن کر دیا جاتا تھا۔انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈایتھکس(ENCYCLOPEDIA OF RELIGION AND ETHICS) صفحہ ۵۰۷ پر لکھا ہے کہ مصریوں میں جانور کی پوجاکرنے کا جو رواج تھا اس میں سب سے اہم مقام بَیل کو حاصل تھا۔اور اس پوجا کا نشان بہت پُرانے زمانہ تک ملتا ہے۔جب کوئی پُرانا ایپس یعنی بیل مر جاتا تھا تو ایک نئے بیل کی تلاش کی جاتی تھی اور جس گلے میں سے یہ بیل ملتا تھا اس کے مالک کو بڑی عزت دی جاتی تھی اور جو شخص اس کو تلاش کرتا تھا اُس کو بھی بہت بڑا انعام دیا جاتا تھا اور بَیل کی مادہ کو بھی لا کر میمفِس مندر کے ایک اور کمرہ میں رکھا جاتا تھا۔سال میں صرف ایک دفعہ اُسے گائے سے ملنے کا موقع دیا جاتا تھا اور پھر اُس گائے کوقتل کر دیا جاتا تھا۔اُس کی پیدائش کا دن ہر سال منایا جاتا تھا۔اس دن اُسے پبلک کے سامنے لایا جاتا تھا۔اور لوگ اُس کی زیارت کے لئے جمع ہوتے تھے۔مصری لوگ اس بَیل کے احوال سے آئندہ کی خبریں معلوم کرتے تھے اور بیل کے مندر کے پجاریوں کی خوابوں سے ( بزعم خود) فائدہ اُٹھاتے تھے بلکہ اس مندر کے سامنے کھیلتے ہوئے بچّے جو باتیں کرتے تھے اُن سے بھی وہ پیشگوئیوں کا مفہوم نکالتے تھے۔جب وہ مر جاتا تھا تو اُس کی ممی بنا کر ایک چٹان کی قبر میں محفوظ کر دیتے تھے۔ایپس بَیل کی پوجا کسی خاص قبیلہ سے تعلق نہیں رکھتی تھی بلکہ سارا ملک اس کی عبادت کرتا تھا۔اس بَیل کی پوجا کی بنیاد کہا جاتا ہے کہ مصر کے دوسرے بادشاہ ’’ککاؤ‘‘ نامی نے شروع کی تھی اور میمفس پر اس کا مندر بنایا تھا اور اس بَیل کا نام سورج دیوتا کے باپ فتاح( PHTAH)دیوتا کے نام پر ایپس رکھا تھا۔اسی طرح ہلیوپولس مقام پر اس نے ایک دوسرے بَیل منَیوِسMNEVIS نامی کی سورج دیوتا کی ایک زندہ یادگار کے طور پر پرستش کروانی شروع کی نیز ہر مان تھِس (HERMONTHIS)مقام پر ایک بَیل ’’باکھا‘‘ نامی کی پرستش شروع کرائی گئی جسے پہلے مَنتو (MENTUI) دیوتا کا اور بعد میں سورج دیوتا کا مظہر قرار دیا گیا۔مصریوں میں بَیل کی طرح گائے کی بھی پوجا کی جاتی تھی۔بیل کے سِوا اَور جانوروں کی پوجا بھی مصر میں ہوتی تھی اور جس قسم کے جانور کا نمائندہ کِسی مندر میں رکھا جاتا تھا۔اُس قسم کے سارے جانوروں کو ہی مقدّس سمجھا جاتا تھا گو اُن کی پرستش نہیں کی جاتی تھی۔اس قسم کے جانوروں کو کھانا جائز نہیں ہوتا تھا۔اور اگر کوئی شخص کسی دیوتا کے