تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 163

وَاصْنَعْ کَمَاشٍ فَـوْقَ اَرْ ضِ الشَّوْکِ یَحْذَرُمَایَرٰی لَا تَحْقِرَنَّ صَغِیْرَۃً اِنَّ الْجِبَالَ مِنَ الْحَصٰی (ابن کثیر سورۃ بقرۃ زیر آیت ۳) یعنی گناہوں کو چھوڑ دے خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے یہ تقویٰ ہے اور تو اُس طریق کو اختیار کر جو کانٹوں والی زمین پر چلنے والا اختیار کرتا ہے یعنی وہ کانٹوں سے خوب بچتا ہے اور تو چھوٹے گناہ کو حقیر نہ سمجھ کیونکہ پہاڑ کنکروں سے ہی بنے ہوئے ہوتے ہیں۔تفسیر۔سبت کے معنے سبت کے معنے حلِّ لُغات میں بتائے جا چکے ہیں کہ زمانۂ راحت۔کاٹنے۔مونڈنے۔سبت کا دن منانے اور ہفتہ کے دن کے ہوتے ہیں۔یہ سارے معنی ہی اس آیت پر چسپاں ہو سکتے ہیں۔اگر تو اس آیت کو گزشتہ آیات سے ملا کر نہ پڑھا جائے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ جب ہم نے تم کو مال و دولت اور آرام و آسائش دی تو تم نے شرارتیں شروع کر دیں اس لئے ہم نے تم کوذلیل کر دیا۔اور اگر سابق آیات سے ملا کر پڑھا جائے تو پھر اس کے معنے یہ ہوں گے کہ طُور کے موقع پر جو احکام تمہیں دئے گئے تھے اُن میں سے ایک حکم سبت منانے کا بھی تھا۔تم نے اُس حکم کی بھی نافرمانی کی۔سبت منانے کا حکم بائبل میں سبت کا ذکر استثنا باب ۵ آیت ۱۲ تا ۱۵میں آتا ہے۔لکھا ہے:۔’’ سبت کے دن کو یاد کرتا کہ تو اُسے مقدّس جانے جیسا خداوند تیرے خدا نے تجھے حکم کیا ہے۔چھ دن تک تو محنت کر اور اپنے سب کام کیا کر۔پر ساتواں روز خداوند تیرے خدا کے سبت کا ہے تو اُس دن کوئی کام نہ کر ،نہ تو، نہ تیرا بیٹا، نہ تیری بیٹی، نہ تیرا غلام، نہ تیری لونڈی، نہ تیرا بیل، نہ تیرا گدھا، نہ تیری کوئی مواشی اور نہ مسافر جو تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو، تاکہ تیرا غلام اور تیری لونڈی تیری طرح سے آرام کریں۔یہ بھی یاد کر کہ تو مصر کی زمین میں غلام تھا۔اور وہاں سے خداوند تیرا خدا اپنے زور آور ہاتھ اور بڑھائے ہوئے بازو سے تجھے نکال لایا۔اس لئے خداوند تیرے خدا نے تجھ کو حکم دیا کہ تو سبت کے دن کی محافظت کر۔‘‘ اِسی قسم کا مضمون خروج باب ۲۰ آیت ۸ تا ۱۱ میں بھی ہے۔اوپر کی عبارت سے معلوم ہوتا ہےکہ یہ ٹکڑا واقعی اُن ٹکڑوں میں سے ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وحی میں سے اب تک محفوظ چلے آتے ہیں۔انسانی اعمال کی حکمت اور غرباء کی خبرگیری کی نہایت اعلیٰ درجہ کی تعلیم اس میں موجود ہے۔