تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 155
آیت نمبر ۴۹جلد ھٰذا۔تفسیر۔اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ کی تفسیر اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ سے وہ دس ۱۰ احکام اور ان کے ساتھ اُترنے والی دوسری تعلیم مراد ہے جو سیناء پہاڑ پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملی۔اس آیت میں ان احکام کی طرف بنی اسرائیل کو توجہ دلائی گئی ہے کہ ان احکام کو یاد کرو جو تمہیں اس وقت دیئے گئے تھے جبکہ تم سیناء کے نیچے کھڑے ہوئے تھے اور جن کے سُننے پر تم پیٹھ پھیر کر چلے گئے تھے اور تم نے خدا تعالیٰ کا کلام سُننے سے انکار کر دیا تھا کہ ایسا نہ ہو ہم مر جائیں۔مِیْثَاقَکُمْمیں میثاق کی اضافت ضمیر مخاطب کی طرف کرنے کی وجہ مِیْثَاقَکُمْ میں جو میثاق کی اضافت ضمیرِ جمع مخاطب کی طرف کی گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ میثاق بنی اسرائیل میں ایک خاص شہرت رکھتا ہے اور اسے بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔اس میثاق کے وقت بنی اسرائیل کے اُن تعلقات کی بنیاد رکھی گئی جو اُن میں اور اﷲ تعالیٰ میں قائم رہنے والے تھے اور اسی میثاق کے وقت اُن کی نافرمانیوں کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ شریعت لانے والا نبی بنو اسحاق میں سے نہیں بلکہ بنواسماعیل میں سے ہو گا۔پس یہ میثاق چونکہ ایک خصوصیّت رکھتا تھا اس لئے اس کا نام ہی بنی اسرائیل کا میثاق رکھ دیا گیا اور اس وجہ سے ضمیر مخاطب کی طرف میثاق کی اضافت کی گئی۔گویا یہ اضافت اُس عہد کی اہمیّت کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہے اور ایسا محاورہ ہر زبان میں پایا جاتا ہے بعض دفعہ ایک ماں باپ کے کئی بچّے ہوتے ہیں۔کوئی بچّہ ماں کا لاڈلا ہوتا ہے۔اُسے شرارت کرتے وقت اگر باپ کبھی دیکھ لے تو وہ اسے ماں کے پاس لے آتا ہے اور کہتا ہے لو تمہارا بچّہ ایسا کر رہا ہے اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ باپ کا بچہ نہیں یا دوسرے بیٹے ماں کے بیٹے نہیں بلکہ مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ اس بچّہ سے ماں خاص تعلق رکھتی ہے۔اسی محاورہ کے مطابق مِیْثَاقَکُمْ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور اس کے یہ معنی نہیں کہ اَور کوئی عہد بنی اسرائیل سے کیا ہی نہ گیا تھا۔رَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ میں لفظ طور کے معنے وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ۔طُور کے معنے عبرانی زبان میں پہاڑ کے ہوتے ہیں خواہ کوئی پہاڑ ہو HEBREW AND ENGLISH LAXICON OF THE OLD TESTAMENT عہد ِ قدیم کی عبرانی ( انگریزی لغت) اور عربی زبان میں بھی طُور کے ایک معنے پہاڑ کے ہیں لیکن باوجود اس کے کہ عربی زبان میں بھی طُور کے معنے پہاڑ کے ہیں۔جب یہودیوں سے عربوں نے یہ سُنا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے خدا تعالیٰ نے طُور پر کلام کیا تھا تو انہوں نے سمجھا کہ شائد عبرانی زبان میں طُور اُس خاص پہاڑ کا نام