تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 151

والی ہو۔نجات یافتہ قرار دیتا ہے مگر یہ درست نہیں۔ایمان باﷲ و یومِ آخر میں اسلام کے سب اصول شامل ہیں چنانچہ ایک دوسری جگہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ يَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا۔اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا (النسآء : ۱۵۱۔۱۵۲) یعنی جو لوگ اﷲاور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور اﷲ اور اُس کے رسولوں کے درمیان فرق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان میں کوئی اور راستہ بنا لیں۔یہ لوگ ہی پکّے کافر ہیں۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ پر ایمان کے اندر ہی رسولوں پر ایمان لانا بھی شامل ہے اور رسولوں پر ایمان لانے میں اگر وہ کوئی کتاب لایا ہو تو اس پر ایمان لانا بھی داخل ہو گا۔اسی طرح ایک دوسری جگہ فرمایا ہے۔وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ (الانعام:۹۳) یعنی جو لوگ آخرت پر ایمان لاتے ہیں وہ اس پر (یعنی قرآن کریم پر) بھی ایمان رکھتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔اس آیت سے ثابت ہے کہ یوم آخر پر ایمان میں قرآن کریم پر ایمان لانا اور عبادات کا بجا لانا بھی شامِل ہے پس اﷲ اور یومِ آخر پر ایمان لانا صرف ہستیٔ ءِ باری اور یوم آخر کا اقرار کرنا نہیں بلکہ اس کے اندر تمام وہ فروع بھی شامل ہیں جو ان سے متفرّع ہوتے ہیں۔عَمِلَ صَالِحًا عملِ صالح کے معنے ہیں وہ عمل جو مناسب حال ہو۔صَلَحَ کے معنے عربی زبان میں مناسب کے ہوتے ہیں یعنی جس میں کوئی نقص نہ ہو۔کہتے ہیں صَالَحَہٗ وَافَقَہٗ اُس کے موافق ہو گیا۔اور کہتے ہیں ھٰذَ ا یَصْلُحُ لَکَ۔یہ کام تیرے مناسبِ حال ہے اور کہتے ہیں۔اَصْلَحَ بَیْنَ القَوْمِ اُس نے قوم کی آپس میں موافقت کر ا دی۔اعمال صالحہ سے مراد مناسب حال اعمال پس عملِ صالح کے معنے اُس کام کے ہیں جو ضرورت اور وقت کے مطابق ہو اور ایسا ہی کام فساد اور خرابی کو دُور کر سکتا ہے جو کام ضرورت اور وقت کے مطابق نہ ہو۔اس سے فساد اور خرابی پیدا ہوتی ہے خواہ بظاہر وہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ نظر آتا ہو۔جہاد کے وقت میں اگر کوئی نماز شروع کر دے یا نماز کے وقت میں صدقہ و خیرات بانٹنے لگ جائے یا رمضان کے ایاّم میں ایسے کاموں میں مشغول ہو جائے جو روزے کو باطل کر دیتے ہیں مثلاً اِرد گرد کے علاقوں میں تبلیغ کے لئے جانا شروع کر دے اور سفر کے عذر سے روزہ نہ رکھے تو ایسے شخص کے اعمال گو وہ تمام کے تمام اچھے ہی ہوں عملِ صالح نہیں کہلائیں گے اور اُن کا نیک نتیجہ پیدا نہیں ہو گا۔قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی کامِل انسان کا ذکر ہے، وہاں عمل صالح کی ہی شرط رکھی گئی ہے اور کسی جگہ بھی