تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 152

عملِ خیر کی شرط نہیں رکھی، کیونکہ کوئی عملِ خیر بغیر عملِ صالح ہونے کے نفع نہیں دیتا۔ہاں بعض بظاہر بُرے نظر آنے والے عمل عملِ صالح ہونے کی وجہ سے نفع دے جاتے ہیں مثلاً کسی شخص کے سر پر بچھو نظر آ جائے یا پگڑی میں کہیں سانپ بیٹھا ہوا دکھائی دے تو گو مارنا اور پیٹنا عملِ شرمیں سے ہے لیکن ایسے وقت میں اگر کوئی زور سے ہاتھ مارے یا زور سے جوتی ہی مار دے اس خیال سے کہ اگر آہستہ سے اس چیز کے قریب گئے یا اس شخص کو بتایا جس کے سر پر وہ چیز بیٹھی ہے تو وہ زہریلا کیڑا اُسے ڈس لے گا۔تو یہ عمل گوبظاہر بُرا ہو گا مگر عملِ صالح ہو گا اور اس لئے کرنے والے کو ثواب کا مستحق بنا دے گا۔کوئی شخص کسی گڑھے کے پاس کھڑا ہو اور دوسرے شخص کو معلوم ہو جائے کہ اُس پر کوئی شخص فائرکرنے لگا ہے اور وہ اسے دھکّا دیکر گڑھے میں پھینک دے تو اگر گڑھے میں گرنا بندوق کا نشانہ بننے سے کم ضرر رکھتا ہو تو یہ گڑھے میں گِرا دینا ایک عملِ صالح کہلائے گا گو عام حالات میں یہ نیک کاموں میں سے نہیں۔پس حقیقت یہی ہے کہ جو چیز انسان کو ثواب کا مستحق بناتی ہے وہ عملِ صالح ہے۔اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ اکثر اوقات عملِ خیر ہی عملِ صالح ہوتے ہیں لیکن بعض وقت انسان عملِ خیر کو عملِ غیرصالح بنا دیتا ہے اُس وقت وہ عملِ خیر ثواب کا موجب نہیں رہتا۔اسی طرح بعض دفعہ ضرورت کے ماتحت عملِ شرّ عملِ صالح بن جاتا ہے بشرطیکہ خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہو۔اس وقت اسی پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم ایک دفعہ جہاد کے لئے تشریف لے گئے بعض صحابہؓ نے روزے رکھے ہوئے تھے وہ منزل مقصود پر پہنچ کر چوُر ہو کر گر گئے۔مگر جو بے روزہ تھے۔انہوں نے خیمے لگانے شروع کئے۔کھائیاں کھودنی شروع کیں۔لکڑیاں جمع کرنی شروع کیں اور وضو کے لئے پانی لائے۔رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا۔آج بے روزہ روزہ داروں سے بڑھ گئے۔اس واقعہ سے یہی سبق ملتا ہے کہ گو روزہ ایک اچھا عمل ہے مگر ایسے وقت میں کہ اسلام کو انسان کی طاقت کی ضرورت ہو اُس وقت یہی روزہ ناجائز ہو جائے گا یا ادنیٰ عمل بن جائے گا ( یاد رکھنا چاہیے کہ یہ روزے نفلی تھے فرضی نہ تھے فرضی روزہ سفر میں منع ہے)۔آج کل بد قسمتی سے مسلمانوں میں یہی خرابی پیدا ہو رہی ہے کہ بظاہر عمل خیر کرنے والے تو ان میں بہت نظر آتے ہیں مگر عمل صالح کرنے والے بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔اسلام مصیبت میں ہے۔چاروں طرف سے اُس پر حملے ہو رہے ہیں۔اِس گِرے ہوئے زمانہ میں بھی لاکھوں مسلمان نماز اور اذکارِ الٰہی کے پابند ہیں لیکن وہ اپنا سارا وقت ذکر اور نماز میںہی خرچ کر دیتے ہیں۔اُن کے مصلّے تو بیشک آباد ہیں مگر محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے گھر کے اُجڑنے کی اُن کو کوئی فکر نہیں۔یقیناً یہ نمازیں اور یہ ذکر اُن کے مُنہ پر مارے جاتے ہیں اور چونکہ وہ اسلام کے گھر کی