تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 149
ہونے دیتا نہ اُن کو دُکھ میں دیکھ سکتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ کب اپنے پیارے بندوں کو ذلیل اور رُسوا کرے گا۔پس مختلف مذاہب کے فیصلہ کے لئے یہ طریق اختیار کیا جائے کہ جس مذہب کو الٰہی نصرت اور مدد ملے وہ الٰہی مذہب ہو گا اور جو خدا تعالیٰ کی نصرت سے محروم ہو وہ خدا تعالیٰ کا پسندیدہ مذہب نہیں ہو سکتا۔اس طریق کے مطابق اس وقت کے بعض مذاہب کا نام لے کر اﷲ تعالیٰ نے اِس آیت میں اُن لوگوں کو متوجہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ لوگ جو مومن ہیں یعنی اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ہی سچے مومن ہیں اور وہ جو یہودی ہیں اور نصاریٰ اور صابئین۔یہ سب لوگ اپنے اپنے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور اِس بات کے بھی مدّعی ہیں کہ جو اعمال ان کی قوم کرتی ہے وہی سچے اور خدا تعالیٰ کے پسندیدہ ہیں۔اب اُن کی اس بات کا فیصلہ کرنے کے لئے کہ اُن میں سے کون واقعہ میں اﷲ تعالیٰ کا پیارا اور سچا مومن ہے۔ہم یہ طریق بتاتے ہیں کہ ان میں سے جو شخص واقعہ میں اﷲ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور یومِ آخر پر یقین رکھتا ہے اور وہ اعمال کرتا ہے جو واقعی اچھے ہیں وہ ضرور خوف و حزُن کی حالت سے نکل جائے گا اور اﷲتعالیٰ کے فضل سے ہر طرح کاآرام اُسے حاصل ہو جائے گا۔آیت اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا۔۔۔۔الخ میں اسلام کی ترقی کی طرف اشارہ یہ معیار جس حالت میں پیش کیا گیا ہے اُس کا علم اِس بات کے جاننے سے ہو سکتا ہے کہ سورۂ بقرہ ہجرت کے ابتدائی سالوں میں نازل ہوئی ہے اور اُن دنوں میں اسلام نہایت کمزور حالت میں تھا۔خود اہلِ عرب مخالف تھے اور جان کے دشمن تھے۔اہلِ مدینہ میں سے ایک زبردست جماعت صرف منافقانہ طور پر اسلام لے آئی تھی اور درپردہ اسلام کی تباہی کے لئے کوشاں تھی۔یہود کے تین قبیلے مدینہ میں رہتے تھے اور تینوں اسلام کے سخت دشمن اور اسلام کے مٹانے کے درپے تھے۔مسیحیوں کے مختلف قبائل مدینہ کے قُرب و جوار میں بستے تھے اور شام کی سرحد مدینہ سے چند منزل پر ہی تھی۔اور وہاں کے باشندوں کے سینے اسلام کی عداوت سے لبریز تھے۔مسلمانوں کی تعداد عورتیں اور بچے ملا کر تین چار ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ایسے وقت میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے منہ سے اﷲ تعالیٰ یہ کلمات نکلواتا ہے اور کل مخالفین کو جو نہ صرف تعداد میں ہی ہزاروں گُنا زیادہ تھے بلکہ مال، دنیا وی رُعب و داب اور حکومت اور سازوسامان کے لحاظ سے بھی آپ پر لاکھوں درجہ فضیلت رکھتے تھے۔یہ پیغام دلواتا ہے کہ ہم سب اس بات کے مدعی ہیں کہ ہم اﷲ تعالیٰ پر اور یوم آخر پر ایمان رکھتے اور خدا تعالیٰ کے پسندیدہ اعمال کرتے ہیں پس اس کا فیصلہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ جو لوگ واقعہ میں ایسے ہیں ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ اُن کی مدد کرے۔پس باوجود اس کے کہ تم زیادہ ہو اور ہر طرح امن و امان میں ہو۔ہم کہتے ہیں کہ جس کو خدا تعالیٰ دُکھوں اور تکلیفوں سے نجات دے دے وہ سچا اور واقعہ میں