تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 148

اسلامی تعلیم کے مطابق اپنے ایمان کو درست کریں اور مناسبِ حال اعمال بجا لائیں تو اُن کی روحانی ترقّیات کے سامان پھر پیدا ہو سکتے ہیں۔وہ پھر خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتے ہیں۔وہ پھر اﷲ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہو سکتے ہیں۔ان کی قوم کی گذشتہ بداعمالیاں اُن کے رستہ میں حائل نہیں ہوں گی۔روک نہیں بنیں گی۔اِس جگہ ایک شبہ پیدا ہو سکتا ہے اور اس کا جواب دینا بھی ضروری ہے اور وہ یہ کہ اگر بنی اسرائیل کی ایمانی حالت اس درجہ تک گِری ہوئی تھی تو پھراﷲتعالیٰ نے ان کو خاص فضیلت کیوں دی، اس کا جواب یہ ہے کہ کسی قوم کی حالت کا اندازہ صرف اس کے عوام کی حالت سے نہیں لگایا جاتا بعض دفعہ اس کی قیمت کا اندازہ اس کے خاص افراد کی حالت سے بھی لگایا جاتا ہے اور کبھی اس کی فطری قابلیت سے لگایا جاتا ہے۔بنو اسرائیل کو دیکھو باوجود نبوت سے اس قدر دُور ہو جانے اور ہر قسم کے مظالم کا تختۂ مشق بنے ہوئے ہونے کے اپنی ذہانت اور عقل سے اب بھی وہ دنیا پر اقتصادی طور پر حکومت کر رہے ہیں اور ہر قسم کے علمی انکشافات میں پیش پیش ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم قابلیت میں دوسری بہت سی اقوام سے ممتاز ہے۔یہ تو ان کی فطری قابلیت کی دلیل ہے۔ان کے خاص افراد کی قابلیت کا ثبوت یہ ہے کہ جس قدر انبیاء اس قوم میں آئے ہیں اَور کسی قوم میں نہیں آئے۔اس قدر افراد کا جوہر خالص رکھنا اور خدا تعالیٰ کا قُرب حاصل کرنا بھی یقیناً اس قوم کی فضیلت کا ثبوت ہے پس اس قوم کا خاص فضلوں کے لئے چُنا جانا غلط نہ تھا۔نہ تحکّمانہ فعل تھا۔یہ قوم واقعہ میں ان فضلوں کی مستحق تھی مگر اس میں جہاں خاص لوگوں کی بہتات اور فطری نور کی حدّت کی خوبی تھی وہاں یہ بھی نقص تھا کہ یہ اپنے فطری نور سے دنیوی ترقی کے حصول کے لئے مدد لیتے تھے نہ دینی ترقی کے لئے اور بوجہ عام طور پر ذہن رسا حاصل ہونے کے اپنے انبیاء سے حسد کرتے تھے اور ان کو خاص درجہ دینے پر تیار نہ ہوتے تھے۔ان دونوں نقائص نے آخر ان کو روحانی میدان سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا اور یہ لوگ نبوت کا انعام کھو بیٹھے۔خلاصہ یہ کہ یہود کا ایک ہی وقت میں خاص فضلوں کا وارث ہونا اور پھر خدا تعالیٰ کی ناراضگی کو بار بار اپنے پر نازل کرنا دو متضاد امور نہیں ہیں۔ایک ہی وقت میں یہ دونوں امور جمع ہو سکتے ہیں اور بنی اسرائیل کے وجود میں جمع بھی ہوئے۔آیت اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا کے معنی منفردانہ حیثیت سے یہ معنے تو قرآن کریم کی آیات کی ترتیب کے لحاظ سے ہیں لیکن اگر اس آیت کے مضمون پر منفردانہ نگاہ ڈالی جائے تو پھر اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے معنے مخصوص طور پر مسلمانوں کے بھی کئے جا سکتے ہیں۔اس صورت میں یہ آیت ایک عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل ہے اور اِس میں مختلف مذاہب کے فیصلہ کی ایک آسان راہ بتائی گئی ہے اور وہ یہ کہ کوئی شخص اپنے پیاروں کو تباہ اور برباد نہیں