تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 147

تشریح کرنے کے لئے الَّذِيْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِـِٕيْنَ کہہ کر تین ایسی مثالیں دے دی گئی ہیں جو عرب کے اِردگِرد رہنے والے مذاہب کی ہیں اور اس آیت سے اُس مایوسی کو دُور کیا گیا ہے جو گذشتہ آیات میں یہودیوں کے حالات کو پڑھ کر ایک مومن کے دل میں پیدا ہو سکتی تھی اور بتایا ہے کہ ایمان کا رستہ ایسا مخدوش نہیں جیسا کہ یہودیوں کی حالت سے ظاہر ہوتا ہے۔انہوں نے خود اپنی حالت مخدوش بنا لی ورنہ روحانی رستہ تو بالکل کُھلا اور صاف ہے۔اﷲ پر انسان ایمان لے آئے۔یومِ آخر پر ایمان لے آئے اور اس کے مطابق عمل کرے ساری مشکلیں آپ ہی دُور ہو جاتی ہیں۔سارے مسائل آپ ہی حل ہو جاتے ہیں۔نہ نبیوں کے پہچاننے میں کوئی دقّت رہتی ہے، نہ دوسرے مسائل روحانیہ کی سچائی کے سمجھنے میں کوئی مشکل رہ جاتی ہے، نہ اخلاقی مسائل کی اُلجھنیں باقی رہتی ہیں، نہ عبادات کے ادا کرنے میں کوئی تکان پیدا ہوتی ہے اور نہ حقوق العباد کے ادا کرنے میں کوئی بوجھ محسوس ہوتا ہے۔قرآن کریم کا یہ ایک کمال ہے کہ جہاں کہیں بھی کوئی ایسا مضمون ہو جس سے مایوسی پیدا ہونے کا خطرہ ہو تو وہ دوسرا پہلو امید کا بھی ساتھ ہی پیش کر دیتا ہے اور جہاں کہیں امیداور خوشی کا مضمون ایسا زور دار ہو کہ اس سے غفلت اور سُستی پیدا ہونے کا احتمال ہو جائے تو وہ خوفِ خدا اور خشیت کا مضمون بھی مناسب طریقہ سے اس جگہ پر بیان کر دیتا ہے تاکہ ایمان کی حالت وسط میں رہے اور مسلم کا دل کسی ایک کیفیّت کی طرف منتقل ہو کر جادۂ اعتدال سے ہٹ نہ جائے۔دوسری کتابوں کا یہ حال نہیں وہاں محبت کا ذکر ہے تو محبت کا ذکر ہی ہوتا چلا جاتا ہے یہانتک کہ دل میں غفلت پیدا ہو جاتی ہے۔عذاب الٰہی کا ذکر ہو تو عذاب الٰہی پر اتنا زور دیا جاتا ہے کہ مایوسی پیدا ہو جاتی ہے۔انجیل اور تورات اور دوسری تمام مذہبی کتابوں میں اِس توازن کو مدّنظر نہیں رکھا گیا صرف اور صرف قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جو اس توازن کو مدِّنظر رکھتی اور ایسی حالت پیدا ہونے نہیں دیتی جو نامناسب امیدوں یاخطرناک مایوسیوں کی طرف انسان کو لے جائے۔اِس آیت کا تعلق پہلی آیات سے ایک اور رنگ میں بھی پایا جاتا ہے اور وہ یہ کہ چونکہ گذشتہ آیات میں بار بار بنی اسرائیل کو ان کی نافرمانیاں یاد دلائی گئی تھیں۔شریف الطبع اور خدا تعالیٰ کا خوف رکھنے والے بنی اسرائیل ان واقعات کو یکجائی طور پر دیکھ کر یقیناً متأثر ہو سکتے تھے اور ڈر ہو سکتا تھا کہ وہ مایوس ہو جائیں اور سمجھیں کہ ہماری قوم کے لئے تو اب بخشش کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا۔اس لئے اس آیت میں اس مایوسی کی حالت کو دُور کر دیا گیا اور اﷲ تعالیٰ نے بتایا کہ آج اسلام کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے پھر رحمت کے دروازے کھول دیئے ہیں۔خواہ مسلمان کہلانے والے لوگ ہوں، خواہ یہودی، عیسائی یا اَور کسی کتاب کو ماننے والے ہوں اگر وہ آج بھی