تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 146

نے اگر ٹھوکریں کھائیں تو اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ ایمان کے ہوتے ہوئے وہ ٹھوکریںکھاتے تھے بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ایمان میں کمزوری تھی ورنہ جو شخص خدا تعالیٰ پر سچا ایمان لاتا ہے اور بعث بعد الموت پر یقین رکھتا ہے اور اس کے مناسبِ حال عمل کرتا ہے وہ کبھی خدا تعالیٰ کے غضب کا مستحق نہیں ہوتا۔پس اگر یہودیوں کو ٹھوکر لگی، اگر اُن کے بعد نصاریٰ کو ٹھوکر لگی اور اگرا ن کی ہمسایہ قوم صابئین کو ٹھوکر لگی تو اس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ یا تو اُن کو اﷲتعالیٰ پر ایمان نہیں تھا یا یوم آخر پر ایمان نہیں تھا یا مناسبِ حال عمل اُن کے نہیں تھے چنانچہ دیکھ لو یہود کو اﷲ تعالیٰ پر کامل ایمان نہیں تھا تبھی تو انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا تھا۔اسی طرح یومِ آخر پر ایمان نہیں تھا تبھی تو انہوں نے اپنی کتابوں میں سے چُن چُن کر یومِ آخر کے متعلق حوالے نکال پھینکے۔یہی حال نصاریٰ کا ہے۔نصاریٰ کو بھی اﷲ تعالیٰ پر ایمان نہیں تھا۔اگر ایمان ہوتا تو وہ خدا تعالیٰ کے ایک بندے کو اس کا بیٹا کیوں بنا دیتے اور عمل صالح کا تو کوئی سوال ہی نہیں کیونکہ کفّارہ نے عمل کی ضرورت کو باطل کر دیا ہے۔پس فرماتا ہے۔یہودیوں کی اِس متزلزل حالت کو دیکھ کر اور اُن کے بارہ میں خدا تعالیٰ کے غضب کی پیشگوئیوں کو پڑھ کر گھبراؤ نہیں اور یہ نہ سمجھو کہ جب یہود جیسی قوم جس میں اس قدر اﷲ تعالیٰ کے نبی آئے اُس کی حالت اتنی خراب ہو گئی تو اور کسی شخص کو اپنے رُوحانی انجام پر کس طرح اطمینان ہو سکتا ہے کیونکہ روحانی انجام کی درستی یقیناً ہو سکتی ہے۔تم اﷲ اور یومِ آخر پر ایمان درست کرو اور عمل صالح کرو۔پھر کوئی چیز تم کو جادہ ٔاعتدال سے پھرا نہیں سکتی۔پھر کوئی چیز تم کو خدا تعالیٰ کے فضل سے محروم نہیں کر سکتی۔نہ ایسے شخصوں کے لئے سابق کا کوئی غم رہتا ہے اور نہ آئندہ کے لئے کوئی ڈر رہتا ہے۔اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا میں تمام اقوام عالم سے خطاب یاد رہے کہ اِس آیت میں اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا میں تمام اقوامِ عالم کا ذکر ہے اور وَ الَّذِيْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِـِٕيْنَ میں زور دینے کے لئے خصوصیّت سے یہودیوں ، نصرانیوں اور صابیوں کا الگ ذکر کر دیا گیا ہے۔گویا تفصیلی طور پر اس آیت کے معنے یوں ہو سکتے ہیں کہ یقیناً وہ لوگ جو اﷲ تعالیٰ پر ایمان لائے۔خاص طور پر ہم اس جگہ نام لے کر ذکر کر دیتے ہیں۔یہودیوں ،نصرانیوں اور صابیوں کا کہ خواہ یہ ہوں یا کوئی اور قوم ہو، جو لوگ بھی اﷲ پر اور یومِ آخر پر ایمان لائیں اور مناسبِ حال عمل کریں انہیں ان کے رب کی طرف سے اجر ملے گا اور نہ اُنہیں آئندہ کا کوئی خوف ہو گا اور نہ گزشتہ باتوں پر کوئی غم ہو گا۔اِن معنوں کی رُو سے اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سے مراد مسلمان نہیں سمجھے جائیں گے بلکہ دنیا کی ہر قوم کے لوگ جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں چاہے وہ ہندو ہوں، زرتشتی ہوں، یونانی ہوں، کنفیوشس مذہب والے ہوں، یہودی ہوں، نصرانی ہوں، صابی ہوں، ساری ہی وہ قومیں جن کو دعویٔ ایمان ہے اس میں شامل ہیں اور اٰمَنُوْا کے اجمالی معنوں کی