تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 10
والا شخص ادنیٰ شخص سے اس کی مدد کی خاطر مل جائے۔( مفردات) اقرب الموارد میں ہے کہ جب شَفَعَ کا لفظ کسی عدد کے لئے یا نماز کے لئے استعمال کریں تو اس کے معنے ہوتے ہیں صَبَّرَہٗ شَفْعًا اَیْ زَوْجًا اَیْ اَضَافَ اِلَی الْوَاحِدِ ثَانِیًا وَاِلَی الرَّکْعَۃِ اُخْرٰی ایک عدد کے ساتھ دوسرا عدد ملا دیا اور ایک کو دو کر دیا یا ایک رکعت کے ساتھ دوسری رکعت ملا کر ان کو دو رکعت بنا دیا۔چنانچہ جب یہ کہیں کہ کَانَ وِتْرًا فَشَفَعَہٗ بِآخَرَ تو اس کے معنے ہوتے ہیں قَرَنَہٗ بِہٖ وہ اکیلا تھا اس کے ساتھ ایک اور ساتھی ملا دیا اور اس کو جوڑا کر دیا اور جب شُفِعَ لِیَ الْاَشخَاصُ بصیغہ مجہول کہیں تو اس کے معنے ہوتے ہیں اَرَی الشَّخْصَ شَخْصَیْنِ لِضُعْفِ بَصَرِیْ بینائی کی کمزوری کی وجہ سے مجھے ایک شخص کی جگہ دو اشخاص نظر آتے ہیں نیز جب شَفَعَ لَہٗ اَوْ فِیْہِ اِلٰی فُـلَانٍ شَفَاعَۃًکہیں تو اس کے معنی ہوں گے طَلَبَ اَنْ یُّعَاوِنَہٗ اس سے خواہش کی کہ وہ اس کی کسی معاملہ میں مدد کرے اور جب شَفَعَ لِفُـلَانٍ فِی الْمَطْلَبِ کا فقرہ بولیں تو اس وقت یہ مراد ہو گی کہ سَعٰی اس نے کسی مقصد اور ارادہ کو پورا کرنے کے لئے کوشش کی اور جب شَفَعَ لِیْ بِالْعَدَاوَۃِ کا فقرہ بولیں تو معنے ہوںگے اَعَانَ عَلَیَّ اس نے میرے خلاف مدد دی (اقرب) أَلشَّفَاعَۃُ کے معنے کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اَلشَّفَاعَۃُ :۔اَلسُّؤَالُ فِی التَّجَاوُزِعَنِ الذُّنُوْبِ مِنَ الَّذِیْ وَ قَعَتِ الْجِنَایَۃُ فِی حَقِّہٖ کہ شفاعت کے معنے ہیں کہ جس کے حق میں کسی سے قصور اور غلطیاں سرزد ہوئی ہوں اس سے یہ خواہش اور سوال کرنا کہ وہ قصور وار سے اس کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر کرے۔وَ قِیْلَ لَا تُسْتَعْمَلُ اِلَّا بِضَمِّ النَّاجِیْ اِلٰی نَفْسِہٖ مَنْ خَافَ مِنْ سَطْوَۃِ الْغَیْرِکہ بعض کے نزدیک شفاعت کا لفظ اسی وقت بولا جاتا ہے جب کوئی ایسا شخص جو خود نجات یافتہ ہو کسی ایسے شخص کی تائید پر کھڑا ہو جائے جو دوسرے کی سزا سے خائف ہو۔(اقرب) عَدْلٌ۔اَلْعَدْلُ ضِدُّالْجَوْرِ۔عدل کا لفظ جَوْر یعنی ظلم کے بالمقابل بولا جاتا ہے یعنی اس کے معنے انصاف کے ہیں نیز اس کے معنے ہیں(۱) اَلْمِثْلُ مثل۔(۲) اَلنَّظِیْرُ نظیر۔(۳)اَلْجَزَاءُ بدلہ معاوضہ۔(۴)اَلْفِدَاءُ فدیہ۔(۵) اَلنَّافِلَۃُ عطیہ یا فرض سے زائد بات۔( اقرب) تفسیر۔آیت وَاتَّقُوْا … الخ میں بنی اسرائیل کے بعض غلط خیالات کا ردّ اس آیت میں بنی اسرائیل کے بعض ایسے خیالات کو ردّ کیا گیا ہے جو ان کو بدیوں پر دلیر کرتے تھے اور نیکیوں سے محروم کرتے تھے بنی اسرائیل کے مختلف گروہوں کے غلط خیال اس بارہ میں یہ تھے (۱) ان کے گناہوں کا بار کوئی دوسرا وجود اُٹھالے گا(۲) ان کے بزرگ ان کی شفاعت کر کے انہیں بچا لیں گے (۳) ان کو بعض نیکیاں حاصل