تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 135
فرمایا ہے نہ کہ مِصْرَ۔اور جب منوّن مصر آئے تو اس کے معنے محض شہر کے ہوتے ہیں نہ کہ ملک مصر کے دارالخلافہ کے۔اور ملک مصر کا دارالخلافہ مصر اس سے مراد نہیں ہوتا۔پس یہ اعتراض عربی زبان سے ناواقفیّت کا ثبوت ہے۔اﷲ تعالیٰ نے اس جگہ پر صرف یہ اجازت دی ہے کہ کسی شہر میں چلے جاؤ تمہیں وہاں یہ چیزیں مل جائیںگی۔وَ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ اس میں یہ بتایا ہے کہ چونکہ انہوں نے زمیندار ے کو ترجیح دی اور بادشاہت کے رستوں کو اپنے لئے بند کرنا چاہا ،اس لئے اﷲ تعالیٰ نے اُن پر ذلّت اور مسکنت نازل فرما دی۔خدا کی قدرت ہے گو پیشگوئیوں کے ماتحت اس کے بعد بنی اسرائیل کو حکومت تو ملی لیکن ان کا خدا تعالیٰ کے وعدوں سے باربار منہ پھیرنا ان کے لئے کچھ ایسا وبالِ جان بن گیا کہ اب دو ہزار سال سے وہ بادشاہت سے محروم ہیں اور تجارت اور زمیندارہ کے سوا اُن کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔بَآءُوْ بِغَضَبٍکا مطلب وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ۔بَآئَ کے معنے اوپر بتائے جا چکے ہیں یعنی اُٹھا لینا اور ایسی طرح اُٹھانا کہ وہ اُس چیز کا مستقل محل بن جائے۔پس بَآئُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ ﷲِ کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ خدا کے غضب کو لے کر اپنے شہروں میں اُترے۔گویا اپنا وطن اور اپنا ٹھکانا جو سب سے زیادہ امن کی جگہ ہوتی ہے وہی ان کے لئے عذاب اور تکلیف کی جگہ بن گئی۔یوں بھی آئندہ زمانہ کے واقعات نے بتا دیا کہ بنی اسرائیل کا وطن کنعان ہمیشہ مصائب کی آماجگاہ بنا رہا۔ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ۔اﷲ تعالیٰ کی باتوں پر ایمان کی کمی نتیجہ تھا، نبیوں کے مقابلہ کا۔جب انہوں نے نبیوں کا ادب نہ کیا تو رفتہ رفتہ اُس کلام کا ادب اور اس پر ایمان بھی جاتا رہا جو وہ لائے تھے اور نبیوں کا مقابلہ انہوں نے اس لئے کیا کہ وہ بدکار اور گنہ گار تھے۔نبیوں نے ان کو ہدایت کی تعلیم دی جو انہیں ناپسند معلوم ہوئی اور انہوں نے ان کا مقابلہ شروع کر دیا۔علّت و معلول کے اصل پر غور کرنے والے لوگ اِس بات سے لُطف اُٹھا سکتے ہیں کہ کس طرح قرآن کریم ہر ایک بدی یا نیکی کی جڑ اور پھر اُس کی جڑ بتاتا ہے تاکہ انسان کسی بدی سے بچنے کے لئے پہلے اس کی جڑ کو کاٹے تا ایسا نہ ہو کہ کچھ مدّت کے بعد وہ بدی پھر عود کر آئے۔بنی اسرائیل کے نبیوں کو قتل کرنے کا مطلب يَقْتُلُوْنَ النَّبِيّٖنَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ِّ اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ بنی اسرائیل نبیوں کو قتل کیا کرتے تھے۔قتل کے معنے اس جگہ قتل کے ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ اُس وقت تک کسی نبی کو بنی اسرائیل نے قتل نہیں کیا تھا۔لفظ قتل کا جان سے مارنے کے علاوہ اور کئی معانی پر اطلاق پانا قَتل کے معنے لغت میں علاوہ قتل