تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 129

دے کر ادنیٰ چیز لیتے ہو۔اَدْنٰی۔اَدْنٰی اسم تفضیل کا صیغہ ہے۔بعض اسے دُنُوٌّ سے بناتے ہیں اور بعض دَنَاءَ ۃٌ سے۔جو دَنَاءَ ۃٌ سے بناتے ہیں وہ اس کے معنے اَخَسُُّّ کے کرتے ہیں یعنی رذیل چیز اور جو اَدْنٰی کو دُنُوٌّ سے بناتے ہیں وہ اس کے معنے اَقْرَبُ کے کرتے ہیں یعنی زیادہ قریب۔لیکن پھر اس کے معنے یہ کرتے ہیں اَقَلُّ قِیْمَۃً کم قیمت (لسان)۔مفردات راغب میں ہے۔یُعَبَّرُبِا لْاَدْنٰی تَارَۃً عَنِ الْاَصْغَرِ فَیُقَا بَلُ بِا لْاَکْبَرِ کہ کبھی اَدْنٰی سے مراد سب سے چھوٹی چیز ہوتی ہے اس وقت اس کے مقابل پر’’ اَکْبَرُ‘‘کا لفظ بولا جاتا ہے۔وَ تَارَۃً عَنِ الْاَرْذَلِ فَیُقَا بَلُ بِالْخَیْرِ اور کبھی اَدْنٰی سے مراد کسی ارذل (ردّی) چیز کے ہوتے ہیں۔اس وقت اس کے مقابل خَیْر (یعنی بہتر چیز) کا لفظ بولا جاتا ہے۔وَتَارَۃً عَنِ الْاَوَّلِ فَیُقَابَلُ بِالْاٰخِرِ اور کبھی ادنیٰ سے مراد ابتدائی ہوتا ہے اور اس وقت اس کے مقابل آخر (بعد کی) کا لفظ بولا جاتا ہے۔وَ تَارَۃً عَنِ الْاَقْرَبِ فَیُقَا بَلُ با لْاَقْصٰی اور کبھی اَدْنٰی (اقرب)یعنی قریب ترین کے معنوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور اس وقت ادنیٰ کے مقابل اقصٰی یعنی دُور کی چیز کا لفظ بولا جاتا ہے۔(مفردات) اِھْبِطُوْا۔(ھَبَطَ یَھْبِطُ یَھْبُطُ تَھْبُطُ سے) امر جمع کا صیغہ ہے۔اِھْبُطُوْا امر مخاطب جمع کا صیغہ ہے اور ھَبَطَہُ (یَھْبُطُ ھَبْطًا) مِنَ الْجَبَلِ کے معنے ہیں اَ نْزَلَہٗ اس کو پہاڑ سے اُتارا۔ھَبَطَ بَلَدًا کَذَا: دَخَلَہٗ کسی شہر میں داخل ہوا (یہ متعدّی بھی استعمال ہوتا ہے چنانچہ ھَبَطَہٗ بَلَدًا کَذَا کے معنے ہوں گے اَدْخَلَہٗ اس کو فلاں شہر میں داخل کیا) ھَبَطَ السُّوْقَ:اَتَاھَا بازار میں آیا۔ھَبَطَ فُـلَانٌ مِنَ الْجَبَلِ (یَھْبُطُ وَ یَھْبِطُ ھُبُوْطًا) نَزَلَ پہاڑ سے اُترا۔ھَبَطَ الْوَادِیَ: نَزَلَہٗ وادی میں اُترا۔ھَبَطَ مِنْ مَوْضِعٍ اِلٰی مَوْضِعٍ آخَرَ: اِنْتَقَل ایک جگہ سے دوسری جگہ چلا گیا (اقرب) پس اِھْبِطُوْاکے معنے ہوں گے(۱) اپنی جائے قیام کو چھوڑ کر کسی اور جگہ قیام پذیر ہو جائو (۲) نکل جائو۔مِصْرًا۔اَلْمِصْرُ: اَلْحَاجِزُ بَیْنَ الشَّیْئَیْنِ دو چیزوں کے درمیان کی روک۔اَلْحَدُّ بَیْنَ الْاَرْضَیْنِ خَاصَۃً وَقِیْلَ الْحَدُّفِیْ کُلِّ شَیْ ءٍ دو ملکوں کے درمیان کی حدّ اور بعض ہر ایک چیز کی حدّ کو مصر کہہ دیتے ہیں۔اَلْکُوْرَۃُ اَیِ الْمَدِیْنَۃُ وَالصُّقَعُ اَوْکُلُّ کُوْرَۃٍ یُقْسَمُ فِیْہَاالْفَیْءُ وَ الصَّدَقَاتُ وہ جگہ جہاں کثرت سے مکانات اور محل ہوں یا وہ آبادی جہاں صدقات تقسیم کئے جائیں یعنی بڑا شہر۔مصر۔شہر مصر کو بھی کہا جاتا ہے۔جسے آجکل قاہرہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔نیز کبھی مصر کے معنوں میں وسعت دے لی جاتی ہے اور ہر شہر پر یہ لفظ