تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 130

اطلاق پاتا ہے۔(اقرب) ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّ لَّۃُ۔ضَرَبَہٗ بِیَدِہٖ وَ بِالْعَصَا کے معنے ہیں اَصَا بَہٗ وَصَدَمَہٗ بِھَا اس کو سونٹے کے ذریعہ سے یا ہاتھ سے مارا (اقرب) اور جب ضَرَبَ عَلٰی یَدَیْہِ کہیں تو معنے ہوں گے۔اَمْسَکَ اس کو خرچ کرنے سے روک دیا اور ضَرَبَ الْقَاضِیْ عَلٰی یَدِ فُـلَانٍ کے معنے ہیں۔حَجَرَ عَلَیْہِ وَمَنَعَہُ التَّصَرُّفَ کہ قاضی نے کسی کو معاملات اور مال میں تصرّف کرنے سے روک دیا۔ضَرَبَ عَلَیْھِمُ الْجِزْیَۃَ کے معنے ہیں وَضَعَہَا وَ اَوْجَبَھَا عَلَیْھِمْ وَ اَلْزَمَھُمْ بِھَا۔ان پر ٹیکس لگا دیا۔جزیہ کا ادا کرنا لازم اور واجب کر دیا (اقرب) ذَلَّ کے معنے ہیں ھَانَ ذلیل و حقیر ہو گیا (اقرب) اور ذِلَّۃٌ کے معنے حقارت والی حالت اور جب ضَرَبَ عَلَیْہِ الذِّلَّۃَ کہیں تو اس کے معنے ہوتے ہیں اَذَلَّہٗ اس کو ذلیل کر دیا (اقرب) امام راغب لکھتے ہیں کہ ضُرِبَ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ کے معنے ہیں اِلْتَحَفَتْہُمُ الذِّ لَّۃُ یعنی ذلت نے انہیں چاروں طرف سے لپیٹ لیا۔(مفردات) اَلْـمَسْـکَـنَـۃُ۔اَلْـفَـقْـرُ مفلسی اَلذُّ لُّ ذلّت و خواری۔اَلضُّعْفُ کمزوری۔(اقرب) بَاءُ وْ بِغَضَبٍ۔بَاءُ وْ: بَاءَ سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور بَاءَ کے معنے ہیں رَجَعَ۔لوٹا (اقرب)اور بَاءَ بِہٖ کے معنے ہیں اَرْجَعَہٗ یعنی اس کو لوٹا لیا۔(اقرب) اَلْغَضَبُ۔کے اصلی معنے ثَوَرَانُ دَمِ الْقَلْبِ اِرَادَۃَ الْاِنْتِقَامِ کے ہیں یعنی غضب جرم کی سزا دینے کے ارادہ پر دل میں خون کے جوش مارنے کو کہتے ہیں لیکن جب یہ لفظ اﷲ تعالیٰ کے لئے بولا جائے تو اس کے معنے صرف جُرم کی سزا دینے کے ہوتے ہیں۔دوسری باتیں اس وقت مدّ نظر نہیں ہوتیں۔( مفردات) قَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ اِتَّقُوا الْغَضَبَ فَاِنَّہٗ جَمْرَۃٌ تُوْقَدُ فِیْ قَلْبِ ابْنِ آدَمَ اَلَمْ تَرَوْا اِلٰی اِنْتِفَاخِ اَوْدَاجِہٖ وَ حُمْرَۃِ عَیْنَیْہٖ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں غضب سے بچو کیونکہ وہ ایک چنگاری ہے جو ابن آدم کے دل میں سلگائی جاتی ہے پھر فرمایا کیا تم نے دیکھا نہیں کہ جب کسی کو غضب آتا ہے تو اس کی رگیں پھول جاتی ہیں اور اس کی آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں۔وَاِذَا وُصِفَ اللّٰہُ تَعَالٰی بِہٖ فَالْمُرَادُ اَ لْاِنْتِقَامُ دُوْنَ غَیْرِہٖ اورجب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے بولا جائے تو اس کے معنی صرف جُرم کی سزا دینے کے ہوتے ہیں دوسری باتیں اس وقت مدنظر نہیں ہوتیں۔(مفردات) لسان میں ہے بَاءَ بِذَنْبِہٖ کے معنے ہیں اِحْتَمَلَہٗ وَصَارَ الْمُذْنِبُ مَاْوَی الذَّنْبِ اس نے گناہ کا بوجھ اُٹھالیا اور گناہ گار گناہ کا مقام بن گیا یعنی گناہ اس سے چمٹ گیا۔پھر لکھا ہے کہ نیز بَاءَ بِذَنْبِہٖ کے معنے ہیں۔کَانَ