تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 126
عَثٰیکے معنے عَثٰی کے معنے جیسا کہ لغت میں بتائے جا چکے ہیں شدید فساد کے ہوتے ہیں۔وَ لَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ کے معنے ہوئے زمین میں فساد کرتے ہوئے سخت فساد مت کرو۔یہ عربی کا محاورہ ہے اور اس محاورہ کے رُو سے اس کے معنی یہ ہیں کہ جانتے بوجھتے ہوئے فساد مت کرو۔بعض دفعہ انسان سے کوئی ایسی حرکت ہو جاتی ہے جو موجب ِفساد ہوتی ہے مگر اس کے پیچھے فساد کی نیّت نہیں ہوتی۔مومن کا کام یہ ہوتا ہے کہ ایسے مواقع سے بھی بچے لیکن کم سے کم اُسے ایسے کاموں سے تو ضرور بچناچاہیے جن کے متعلق اسے معلوم ہو کہ اس کا نتیجہ فساد ہو گا اور یہی مفہوم اس آیت کا ہے۔چونکہ اردو زبان میں اس کا لفظی ترجمہ یوں بنتا ہے ’’ فساد کرتے ہوئے زمین میں سخت فساد نہ کرو۔‘‘ اور یہ اردو ترجمہ بے معنی ساہو جاتا ہے اس لئے ہم نے عربی محاورہ کو مدِّنظر رکھتے ہوئے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے ’’اور مفسد بن کر زمین میں خرابی نہ پیدا کرو۔‘‘ وَ اِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب تم نے کہا تھا کہ اے موسیٰ ہم ایک ہی کھانے پر صبر نہیں کرسکیں گے اس لئے تو لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَ ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کر کہ وہ ہمارے لئے بعض ایسی چیزیں جنہیں زمین اگاتی ہے پیدا کر ے یعنی اس کی قِثَّآىِٕهَا وَ فُوْمِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا١ؕ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ سبزیاں،ککڑیاں، گیہوں، مسور اور پیاز۔(اس پر اللہ نے )کہا کہ کیا تم اس چیز کی بجائے الَّذِيْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّذِيْ هُوَ خَيْرٌ١ؕ اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ جو اعلیٰ ہے اس چیز کو لینا چاہتےہو جو ادنیٰ ہے۔کسی شہر میں چلےجاؤ(وہاں) جوکچھ تم نے مَّا سَاَلْتُمْ١ؕ وَ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ١ۗ وَ مانگا ہے تمہیں ضرور مل جائے گا( تب) انہیں ہمیشہ کے لئے ذلیل اور بے بس کر دیا (گیا )اور وہ اللہ کے