تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 120
الرَّجُلُ مِنْ فُـلَانٍ اِسْتِسْقَاءًکے معنی ہیں طَلَبَ السَّقْيَ وَاِعْطَاءَ مَا یَشْرَبُہٗ یعنی کسی شخص نے کسی دوسرے شخص سے یہ خواہش کی کہ وہ اسے پینے کے لئے کچھ دے۔(اقرب) قَوْمٌ۔اَلْقَوْمُ: اَلْجَمَاعَۃُ مِنَ الرِّجَالِ خَاصَّۃً وَ قِیْلَ تَدْخُلُہُ النِّسَاءُ عَلٰی تَبْعِیَّۃٍٍ یعنی لفظ قوم مردوں کی جماعت کے لئے ہی بولتے ہیں لیکن بعض اہلِ زبان کا یہ خیال ہے کہ اگرچہ یہ لفظ مردوں کی جماعت پر ہی بولا جاتا ہے لیکن تاہم عورتیں بھی اس میں ضمنًاآ جاتی ہیں کیونکہ وہ بھی مختلف انسانی جماعتوں کا ایک حصہ ہوتی ہیں۔(لسان میں لکھا ہے کہ لفظ قوم میں مرد اور عورت ہر دو آ جاتے ہیں لیکن جن لوگوں نے لفظ قوم کو مردوں کی جماعت کے لئے مخصوص کیا ہے وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ قرآن کریم میں آتا ہے۔لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ (الحجرات:۱۲) اگر قوم میں عورتیں بھی داخل ہوتیں تو لفظ قوم کے ذکر کے بعد عورتوں کا ذکر نہ ہوتا جن لوگوں نے لفظ قومکو مردوں اور عورتوں ہر دو کی مشترکہ جماعت کے لئے بولے جانے کے حق میں کہا ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کے ماننے والوں یا جن کی طرف وہ مبعوث ہوتا ہے اس کو قوم کہا گیا ہے اور اس میں مردوعورت ہر دو شامل ہوتے ہیں۔نیز جب یہ کہا جائے قَوْمُ کُلِّ رَجُلٍ تو اس کے معنے ہوتے ہیں شِیْعَتُہٗ وَ عَشِیْرَتُہٗ کنبہ اور کنبے میں مرد و عورت ہر دو شامل ہوتے ہیں )۔اقرب الموارد کا مصنّف کہتا ہے کہ مردوں کی جماعت کو قوم اس لئے کہتے ہیں کہ ان کے وجودوں سے بڑے بڑے کام قیام پذیر ہوتے ہیں پھر لکھا ہے کہ لفظ قوم ہر دو طرح استعمال ہو جاتا ہے۔مذکّر بھی اور مؤنث بھی۔چنانچہ کہہ دیتے ہیں قَامَتِ الْقَوْمُ وَ قَامَ الْقَومُ۔قَوْمٌ کی جمع اَقْوَامٌ۔اَقَاوِمُ۔اَقَاوِیْمُ۔اور اَقَائِمُ۔آتی ہے۔(اقرب) قُلْنَا۔قَالَ سے متکلّم مع الغیر کا صیغہ ہے اور معنے یہ ہیں کہ ہم نے کہا۔ہم نے وحی کی۔قَالَ ماضی کا واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے اور اس کا مصدر قَوْلٌ ہے۔مفرداتِ راغب میں لکھا ہے کہ اَلْقَوْلُ یُسْتَعْمَلُ عَلٰی اَوْجُہٍ لفظ قَوْل کئی معانی کو ادا کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اَظْھَرُ ھَا اَنْ یَّکُوْنَ لِلْمُرَکَّبِ مِنَ الْحُرُوْفِ الْمُبْرَزِ بِالنُّطْقِ مُفْرَدًا کَانَ اَوْجُمْلَۃً (۱) زیادہ تر حروف سے مرکب مفہوم پر بولا جاتا ہے خواہ وہ مفرد ہو یا جملہ۔اَلثَّانِیْ یُقَالُ لِلْمُتَصَوَّرِ فِی النَّفْسِ قَبْلَ الْاِبْرَازِ بِاللَّفْظِ قَوْلٌ (۲)نفس میں کسی سوچی ہوئی بات پر جو ابھی بول کر ظاہر نہ کی گئی ہو اس پر بھی قول کا لفظ استعمال کرتے ہیں چنانچہ کہتے ہیں فِیْ نَفْسِیْ قَوْلٌ لَمْ اُظْھِرْہُ کہ میرے نفس میں ایک خیال ہے جس کو میںنے ظاہر نہیں کیا۔اَلثَّالِثُ لِلْاِعْتِقَادِ (۳) کسی کے کوئی عقیدہ رکھنے کے مفہوم