تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 116
اَلشِّرْکُ۔شرک۔(اقرب) رِجْزٌکے اصل لغوی معنے اضطراب اور پے درپے حرکت کرنے کے ہیں چنانچہ اسی بناء پر رِجْزٌ کے معنے زلزلہ کی قسم کے عذاب کے بھی کئے جاتے ہیں اور شرک اور بتوں کی عبادت کے معنے رِجْزٌ کے اس اعتبار سے ہیں کہ جو ایسا فعل کرتا ہے اس کے اعتقاد میں ایک قسم کا اضطراب ہوتا ہے۔اَلسَّمَاءُ۔آسمان۔کُلُّ مَا عَلَاکَ فَاَظَلَّکَ۔ہر اوپر سے سایہ ڈالنے والی چیز۔سَقْفُ کُلِّ شَیْ ءٍ وَبَیْتٍ چھت۔رَوَاقُ الْبَیْتِ گھرکے سامنے کا چھجہ۔ظَہْرُ الْفَرَسِ گھوڑے کی پیٹھ۔السَّحَابُ بادل۔اَلْمَطَرُ بارش۔اَلْمَطَرُ الجَیِّدَۃُ ایک دفعہ کی برسی ہوئی عمدہ بارش۔اَلْعُشْبُ سبزہ و گیاہ۔(اقرب) یَفْسُقُوْنَ۔فَسَقَ سے مضارع جمع غائب کا صیغہ ہے۔فَسَقَ سے اسم فاعل فَاسِقٌ آتا ہے اور فَاسِقُوْنَ۔فَاسِقِیْنَ۔فَسَقَۃٌ۔فُسَّاقٌ فَاسِقٌ کی جمع ہیں۔فَسَقَ کے معنے ہیں (۱) تَرَکَ اَمْرَ اللّٰہِ اللہ کے حکم کو ردّ کر دیا۔(۲) عَصٰی وَجَارَ عَنْ قَصْدِالسَّبِیْلِ نافرمانی کی اور سیدھے راستہ سے ہٹ گیا۔چنانچہ کہتے ہیں فَسَقَتِ الرِّکَابُ عَنْ قَصْدِ السَّبِیْلِ کہ قافلہ چلتے چلتے ٹھیک راستہ سے اِدھر اُدھر ہو گیا۔(۳) خَرَجَ عَنْ طَرِیْقِ الْحَقِّ حق کے راستہ سے نکل گیا۔وَقِیْلَ فَـجَرَ اور بعض لُغت کے ائمہ نے اس کے معنی بدکار ہو گیا کے کئے ہیں۔نیز کہتے ہیں۔فَسَقَتِ الرُّطَبَۃُ عَنْ قَشْرِھَا اَیْ خَرَجَتْ۔کہ کھجور اپنے چھلکے سے باہر نکل آئی۔اور جب فَسَقَ فُـلَانٌ مَالَـہٗ کہیں تو معنے یہ ہوں گے کہ اَھْلَکَہٗ وَاَنْفَقَہٗ اس نے مال کو ضائع کر دیا اور خرچ کر دیا۔(اقرب) لسان میں ہے اَلْفُسُوْقُ۔اَلْـخُرُوْجُ عَنِ الدِّیْنِ۔یعنی فسوق دین سے خروج کرنے کا نام ہے اور اَلْفِسْقُ کے معنی ہیں۔اَلْعِصْیَانُ وَالتَّرْکُ لِاَ مْرِ اللّٰہِ وَالْخُرُوْجُ عَنْ طَرِیْقِ الْحَقِّ یعنی نافرمانی اور خدا تعالیٰ کے حکم کو ترک کرنے اور سچے راستے سے خروج کا نام فسق ہے۔اَلْمَیْلُ اِلَی الْمَعْصِیَۃِ گناہ کی طرف میلان کو بھی فسق کہتے ہیں۔نیز لکھا ہے وَتُسَمَّی الْفَأْرَۃُ فُوَیْسَقَۃً لِخُرُوْجِہَا عَلَی النَّاسِ وَ اِفْسَادِ ھَا یعنی چوہے کو فُوَیْسَقَۃ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ لوگوں کو دُکھ دیتا ہے اور کام خراب کرتا ہے۔(لسان) امام راغب فاسق کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اَکْثَرُ مَا یُقَالُ الْفَاسِقُ لِمَنِ الْتَزَمَ حُکْمَ الشَّرْعِ وَ اَقَرَّ بِہٖ ثُمَّ اَخَلَّ بِجَمِیْعِ اَحْکَامِہٖ اَوْ بِبَعْضِہٖ کہ فاسق کا لفظ اکثر اس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جو پہلے تو شریعت کے احکام کی پابندی کرے اور ان احکام کو درست سمجھنے کا اقرار کرے لیکن بعدازاں تمام احکامِ شریعت کو یا بعض احکام کو ترک کر دے۔وَاِذَا قِیْلَ لِلْکَافِرِ الْاَصْلِیِّ فَاسِقٌ فَـلِاَ نَّـہٗ اَخَلَّ بِحُکْمِ مَا اَلْزَمَہُ