تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 114
ہو سکتے ہیں کہ تم شہر کے لوگوں کے اموال اور اُن کی اشیاء کو لالچ سے نہ دیکھنا اگر تم نے فرمانبرداری اور استغفار سے کام لیا تو ہم ان قوموں سے بھی زیادہ اموال اور اشیاء تم کو عطا کریں گے۔ریورنڈ ویری کا یہ اعتراض کہ سفر بنی اسرائیل کے واقعات قرآنِ مجید نے حقیقی ترتیب سے بیان نہیں کئے اور اس کا جواب ریورنڈویری اس آیت کے نیچے لکھتے ہیں کہ واقعات کا اس طرح ملا دینا جن میں سے بعض تو دشت میں واقع ہوئے تھے اور بعض ارضِ مقدسہ میں واقع ہوئے اور بعض کہیں بھی واقع نہیں ہوئے اور پھر مزیدبرآں واقعات کو ایک ایسی ترتیب کے ساتھ بیان کرنا جو حقیقی ترتیب سے بالکل مختلف ہے اس بات کا ثبوت ہے کہ عرب کا نبی ( نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ ذَالِک) بائبل کے واقعات سے بالکل ناواقف تھا۔مجھے ریورنڈویری پر ہمیشہ رحم آتا ہے۔اس بندۂ خدا نے اپنی زندگی بالکل ہی برباد کر دی۔ایک پادری ہونے کی حیثیت سے ان کا فرض تھا کہ وہ بائبل کا مطالعہ سب سے زیادہ کرتے مگر اس کتاب کا مطالعہ انہوں نے بہت کم کیا ہے۔اگر وہ بائبل کا مطالعہ غورسے کرتے تو ایک منٹ کے لئے بھی وہ یہ تصوّر نہ کر سکتے کہ بائبل کوئی مستند تاریخی کتاب ہے اور واقعات کو صحیح پیرایہ میں بیان کرتی ہے۔خود بائبل کا موسیٰ علیہ السلام کے سفر کے واقعات کو متضاد بیان کرنا بائبل کے بیانات تو آپس میں اتنے مختلف ہیں کہ کوئی شخص ان بیانات کی موجودگی میں خروج کی کوئی تاریخ لکھ ہی نہیں سکتا اور خود عیسائی مصنّفین خروج کی بیان کردہ تاریخ کو ناقابلِ اعتبار اور ترتیب کے لحاظ سے غلط قرار دیتے ہیں چنانچہ پروفیسر جے۔ایف سٹیننگ ( Stanning) ایم اے آکسفورڈ یونیورسٹی لیکچرار انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا میں لکھتے ہیں کہ خروج میں بعض ایسے واقعات جو موسیٰ ؑکے سفر کے آخری حصّہ کے ہیں شروع میں لکھ دیئے گئے ہیں۔اسی طرح وہ لکھتے ہیں مارہ کے پانیوں کو میٹھا کرنے کا واقعہ اور مَنّاور سَلْوٰی کے آنے کا واقعہ بھی اپنی اصل جگہ پر بیان نہیں کیا گیا۔مَنّ کا واقعہ سینا سے جانے کے بعد ہوا ہے اور بٹیروں کے واقعہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔اسی طرح گنتی میں بٹیروں کے واقعہ کو سفر کے آخر میں بیان کیا گیا ہے لیکن خروج میں شروع میں بیان کر دیا گیا ہے (انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ Exodus incident in the wilderness ) جیسا کہ میں اوپر نوٹوں میں ایک مثال دے چکا ہوں خروج باب ۱۶ آیت ۱۱،۱۲ میں تو یہ لکھا ہے کہ خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ تم شام سے پہلے پہلے بٹیروں کا گوشت کھاؤ گے اور اسے اﷲ تعالیٰ کا ایک انعام قرار دیا ہے لیکن گنتی باب ۱۱ آیت ۳۳ میں یہ لکھا ہے کہ بٹیروں کے آنے پر اُن کا گوشت چبانےسے پہلے بنی اسرائیل مر گئے اور تباہ ہو گئے۔گویا کتاب خروج تو خدا تعالیٰ کی طرف سے پیشگوئی کرتی ہے کہ وہ لوگ