تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 113
بوجھ کے گرائے جانے کی درخواست کرنے کے ہیں اور حِطَّۃٌ اس جگہ خبر ہے ایک مبتدا کی جو محذوف ہے اور وہ مبتدا نحویوں کے نزدیک مَسْئَلَتُنَا ہے یعنی ہماری درخواست حِطَّۃٌ کی ہے یا ہمارا سوال حِطَّۃٌ کا ہے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ اے خدا ہماری تجھ سے درخواست ہے کہ ہمارے گناہوں کے بوجھوں کو ہم سے گرا دے اور ہمارے ساتھ بخشش کا معاملہ کر۔بنی اسرائیل جس وقت دشتِ سینا میں سے گزر کر کنعان کی طرف جا رہے تھے تو رستے میں بعض جگہ وہ ایسے قبائل کے پاس سے گزرے تھے جنہوں نے جنگل میں بعض قصبات اور شہر بنائے ہوئے تھے۔( دیکھو انسائیکلوپیڈیا ببلیکا زیر لفظ Rephidim) بنی اسرائیل کی افسردگی دُور کرنے کے لئے ان شہروں میں تھوڑا سا وقت گزارنے کی ان کو اجازت بھی مل جاتی تھی ایسے ہی شہروں میں سے کسی ایک قصبہ یا شہر کا یہاں ذکر ہے۔قرآن کریم نے اس قصبہ یا شہر کا نام نہیں لیا اور نہ اس کی ضرورت تھی کیونکہ قرآن کریم بنی اسرائیل کے خروج کی تاریخ بیان نہیں کرتا وہ تو حوالے کے طور پر صرف ان واقعات کو بیان کرتا ہے جو اُس کے بیان کردہ مضامین کی تکمیل کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔پس اُسے تو اُس عبرت سے غرض ہے جو اس واقعہ سے نکلتی ہے نہ کہ ناموں اور تاریخوں سے۔غرض فرماتا ہے ایک گاؤں تھا یا قصبہ یا شہر تھا جس میں داخل ہونے کی ہم نے تمہیں اجازت دی اور یہ کہہ دیا کہ اِس شہر میں داخل ہو کر بافراغت کھاؤ یعنی کچھ دن تمدّنی زندگی کے بھی لطف اُٹھا لو ہاں ایک خیال رکھنا کہ شہر میں مومنانہ طور پر داخل ہونا وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ اور دعائیں اور استغفار کرتے جانا تاکہ اپنی کمزوریوں کی وجہ سے شہر کے باشندوں کے بداخلاق سے متأثر نہ ہو جاؤ اگر ایسا کرو گے تو ہم تمہارے گناہوں کو چھپا دیںگے یعنی تمہارے دل کا میلان جو گناہوں کی طرف ہے اسے دبا دیںگے اور نیکی کی قوت عطا کر دیںگے۔وَ سَنَزِيْدُ الْمُحْسِنِيْنَ کہہ کر بتا دیا کہ جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے یہ ادنیٰ انعام ہے ورنہ اگر تم ہمارے حکم پر پوری طرح عمل کرو گے تو ہم تمہیں اس سے بھی بڑھ چڑھ کر انعام دیںگے یعنی صرف تمہارے دل میں گناہ کے مقابلہ کی ہی طاقت نہیں پیدا ہو جائے گی بلکہ اعلیٰ درجہ کی نیکیوں کی قدرت بھی تم کو حاصل ہو جائے گی۔نَزِیْدُا لْمُحْسِنِیْنَکے دو معنے زَادَ کے معنے جیسا کہ حَلِّ لُغَات میں بتائے گئے ہیں زیادہ ہونے کے بھی ہوتے ہیں اور زیادہ کرنے کے بھی ہوتے ہیں اور اس کے معنے نسلی ترقی کے بھی ہو سکتے ہیں اور انعامات کے بھی ہو سکتے ہیں۔پس اس آیت کا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر تم نے اچھی طرح ہمارے احکام پر عمل کیا تو ہم تمہاری نسل کو اتنی ترقی دیںگے کہ تم سے بھی بڑے بڑے ملک بس جائیں گے اور تم بھی شہروں کے بانی ہو جاؤ گے اور یہ معنی بھی