تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 110

متعلق ان کی نافرمانی کا پتہ لگتا ہے چنانچہ خروج باب ۱۶ آیت ۱۹،۲۰ میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کا حکم تھا کہ مَنّ کو جمع نہ کیا جائے لیکن وہ لوگ حرص کی وجہ سے اس کو جمع کرتے تھے۔اسی طرح ان کو حکم تھا کہ وہ سبت کے دن مَنّ لینے کے لئے نہ نکلیں لیکن وہ پھر بھی گئے اور انہوں نے کوئی نہ پایا ( خروج باب ۱۶ آیت ۲۵ تا ۲۹) ایسی ہی کوئی بے احتیاطی معلوم ہوتاہے انہوں نے سَلوٰی کے متعلق بھی کی ہو گی۔شائد اس کا جمع کرنا بھی منع ہو اور انہوں نے اسے جمع کر لیا ہو۔بہر حال اِن الفاظ سے کہ وہ ہم پر ظلم نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی جانوں پر ہی ظلم کرتے تھے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ کسی قدر نافرمانی انہوں نے ضرور کی یا کم سے کم انہوں نے اس بارہ میںناشکری سے کام لیا چنانچہ قرآن کریم میں آگے چل کر اس بارہ میںان کی ایک ناشکری کا ذکر آتا بھی ہے۔وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ اور( اس وقت کو بھی یاد کرو کہ) جب ہم نے کہا تھا کہ اس بستی میں داخل ہو جاؤ اور اس میں سے جہاں سے چاہو رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ بافراغت کھاؤ اور( اس کے) دروازے میں پوری فرمانبرداری کرتے ہوئے داخل ہونا اور کہنا( کہ ہم) بوجھ ہلکا خَطٰيٰكُمْ١ؕ وَ سَنَزِيْدُ الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۵۹ کرنے کی التجا(کرتے ہیں)(تب )ہم تمہاری خطاؤں کو بالکل معاف کر دیں گے اور ہم محسنوں کو ضرور بڑھائیں گے۔حَلّ لُغَات۔اَلْقَرْیَۃُ۔اَلْقَرْیَۃُ کے معنے ہیں اَلضَّیْعَۃُ جاگیر۔جائداد۔اَلْمِصْرُالْجَامِعُ بڑا شہر وَقِیْلَ کُلُّ مَکَانٍ اِتَّصَلَتْ بِہِ الْاَ بْنِیَۃُ وَ اتُّخِذَ قَرَارًا۔اور بعض کے نزدیک قَرْیَہ ہر اس جگہ پر بولیں گے جہاں چند گھر پاس پاس بنے ہوئے ہوں اور وہاں لوگوں کی رہائش بھی ہو۔جَمْعُ النَّاسِ لوگوں کا گروہ (قَرْیٌ کے معنے جمع کرنے کے بھی ہیں چنانچہ کہتے ہیں قَرَیْتُ الْمَاءَ فِی الْحَوْضِ کہ مَیں نے حوض میں پانی جمع کیا۔ان معنوں کو مدّنظر رکھتے ہوئے ہر اس جگہ پر جہاں لوگوں کامجمع ہو اس پر قَرْیَۃٌ کا لفظ بولا جائے گا نیز ان معنوں کو مدّنظر رکھ کر خواہ کوئی شہر ہو یا بستی ہر ایک پر قَرْیَۃ کا لفظ بول سکیں گے لیکن بعض نے قَرْیَۃٌ اور مَدِیْنَۃٌ میں فرق کیا ہے اور کہاہے کہ قَرْیَۃٌ اس بستی کو کہیں گے جس کے ارد گرد فصیل نہ ہو اور مَدِیْنَۃٌ اس کو کہیں گے جس