تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 111

کے ارد گرد فصیل ہو)۔(اقرب) رَغَدًا۔رَغَدَ عَیْشُہٗ رَغَدًا کے معنے ہیں طَابَ وَا تَّسَعَ اس کے لئے زندگی کے سامان وسیع طور پر اور بافراغت مہیا ہو گئے۔(اقرب) تاج العروس میں ہے۔اَلرَّغَدُ۔اَلْکَثِیْرُ الْوَاسِعُ الَّذِیْ لَایُعْیِیْکَ مِنْ مَّالٍ اَوْمَآءٍ اَوْ عَیْشٍ اَوْکَلَإٍ ضروریات زندگی کا سہولت اور کثرت کے ساتھ مل جانا رَغَد کہلاتا ہے۔(تاج ) اَلْبَابُ۔اَلْمَدْخَلُ۔اَلْبَابُ کے معنے ہیں کسی جگہ داخل ہونے کا رستہ نیز جس کے ذریعہ سے وہ رستہ بند کیا جائے اسے بھی باب کہتے ہیں۔(اقرب) سُـجَّدًا۔سُـجَّدًا سَاجِدٌ کی جمع ہے جو سَـجَدَ سے اسم فاعل ہے۔اُسْجُدُوْا۔امر جمع مخاطب کا صیغہ ہے اور اَلسُّجُوْدُ جو (سَجَدَ کا مصدر ہے) کے معنے ہیں اَلتَّذَ لُّلُ عاجزی اطاعت اور فرمانبرداری کرنا۔وَقَوْلُہٗ اُسْجُدُوْا لِاٰدَمَ ، قِیْلَ اُمِرُوْا بِالتَّذَ لُّلِ لَہٗ وَ الْقِیَامِ بِمَصَالـِحِہٖ وَ مَصَالِحِ اَوْلَادِہٖ یعنی آیت اُسْـجُدُوْا لِاٰدَمَ الخ میں فرشتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ آدم کی فرمانبرداری کریں اور اس کے ماتحت چلیں (یعنی اصلاح کا وہ کام جو آدم دنیا میں کریںگے اس میں اس کی مدد کریں اور اس کی قبولیت لوگوں میں پھیلائیں) اور اس کی مدد کریں اور اس کی اولاد کے لئے ممدّ او رمعاون بنیں اَوِاسْجُدُوْالِاَجَلِ خَلْقِ اٰدَمَ۔نیز اُسْـجُدُوْا لِاٰدَمَ کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ آدم کی پیدائش کی وجہ سے اللہ کے حضور سجدہ میں گر جائو۔وَقَوْلُہٗ اُدْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا اَیْ مُتَذَ لِّلِیْنَ مُنْقَادِیْنَ اور قرآن کریم میں جو یہ آیا ہے کہ تم اس دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جائو اس کے معنے بھی یہی ہیں کہ تم فرمانبرداری کرتے ہوئے جائو۔(مفردات) سَـجَدَ (یَسْجُدُ) سُجُوْدًاکے معنی ہیں خَضَعَ وَ اِنْحَنٰی اُس نے عاجزی کی اور عجز کا اظہار جھکنے سے کیا سَجَدَ الْبَعِیْرُ۔خَفَضَ رَأْسَہٗ اونٹ نے اپنا سر نیچا کیا۔سَجَدَ تِ السَّفِیْنَۃُ الرِّیَاحَ : اَطَاعَتْہَا وَمَالَتْ بِمَیْلِہَا کشتی نے ہوا کی پیروی کی اور جدھر کو ہوا اُسے لے گئی اُدھر چل پڑی۔اہلِ عرب کہتے ہیں فُـلَانٌ سَاجِدُ الْمِنْخَرِ اور مراد یہ ہوتی ہے ذَلِیْلٌ خَاضِعٌ کہ فلاں شخص مطیع ہے اور عاجزی کرنے والا ہے۔(اقرب) پس اُسْـجُدُوْا کے معنے ہوں گے اطاعت و فرمانبرداری کرو۔حِطَّۃٌ۔اَلْـحِطَّۃُ اِسْتَحَطَّ کا اسم ہے اور اِسْتَحَطَّ فُـلَا نًا وِزْرَہٗ کے معنے ہوتے ہیں سَأَلَہٗ اَنْ یَحُطَّہٗ عَنْہُ کہ اس سے یہ خواہش کی کہ اس سے اس کے بوجھ کو اُتار دے حِطَّۃٌ مبتدا مخدوف کی خبر ہے جس کی تقدیر یوں ہوگی۔اَمْرُکَ اَوْمَسْئَلَتُنَا حِطَّۃٌ کہ ہماری دعا یہ ہے یا یہ کہ آپ کی شان کے شایان یہ بات ہے کہ آپ ہمارا